بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۱
تحریک الرساله ایک تعارف پروفیسر ظہیر الدین خواجہ، رائچور، کرناٹک مولانا وحید الدین خاں بلا مبالغہ بیسویں صدی کے بڑے عالم دین اور مفکرِ اسلام تھے۔ اہل علم اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ آپ کی وفات عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ سے کم نہیں۔ مولانا کی متعین فکری رجحان کا اظہار ویسے تو ان کی کتاب ’’خدا کا مطلوب انسان‘‘ سے ہو چکا تھا۔ مگر 1976ء میں الرسالہ کے اجراء کے بعد مولانا کی فکر ’’تحریک الرسالہ‘‘ کے نام سے موسوم ہو گئی۔ ایک منفرد تحریک جس کی نظیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ایسی تحریک جس نے ایک طرف دین خداوندی کو انسانی اضافوں سے پاک کر کے اس کی اصل روح اور اصل چہرے کو بے آمیز شکل میں ویساہی پیش کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف بے شمار نفوس کو نہ صرف معرفت کی روشنی سے منور کیا بلکہ زمانی بصیرت اور عصر حاضر کا شعور بھی عطا کیا۔ تقریباً نصف صدی پر محیط تحریک الرسالہ کے مکمل علمی و فکری جہات کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون کا مقصود نہیں ہے۔ یہاں تحریک الرسالہ کے مختلف ادوار کا اجمالی تعارف پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاکہ قاری کو الرسالہ کی تحریریں قابل فہم ہو سکیں۔
راقم الحروف کے خیال کے مطابق، الرسالہ کے اصل بنیادی موضوعات ابتدا سے معرفت اور دعوت اور آخرت ہی رہے ہیں، مگر اپنے مضامین کے لحاظ سے اس تحریک کو درجہ ذیل تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1۔ پہلا ’’معرفت رب‘‘ کا دور۔ سنہ 1976ء سے لے کر 1986ء تک۔
2۔ دوسرا ’’معرفت زمانہ‘‘ کا دور۔ سنہ 1986ء سے لے کر 1996ء تک۔
3۔ تیسرا ’’معرفت دعوت‘‘ کا دور۔ سنہ 1996ء سے لے کر 2021ء تک۔
’’معرفت رب‘‘ کا دور: اس دور میں الرسالہ کے صفحات پر ’’عظمتِ خداوندی‘‘ کے مضامین کا غلبہ رہا۔ اس دور میں خدا کی کبریائی، خدا کے جلال و جمال، کلماتِ اللہ اور آلاء اللہ کا ایسا لافانی نغمہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues