بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۲
الرسالہ کے صفحات سے بلند ہوا ایسا لگتا تھا کہ دینِ فطرت کا کائناتى اظہار ہورہا ہے، گویا کہ فطرت ہم کلامى کررہی ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے، کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے، اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی کرنوں میں خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا، ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمسِ ربانی کا تجربہ ہوگا، وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی مہک کو پائے گا۔ ایمان ایک زلزلہ ہے جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے، ایمان ایک سیلاب ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے سینے میں بہہ پڑتا ہے۔ ‘‘ (اللہ اکبر)
اس دور میں مولانا کے قلم سے ایسے ربانی کلمات نکلے جنہیں پوری تاریخِ بشری میں انسانی زبان سے نکلے ہوئے بہترین ربانی کلمات کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا اور توحید نہ صرف مولانا کا پسندیدہ موضوع تھا بلکہ ہمیشہ مولانا پر ”العظمۃ للہ‘‘ کی نفسیات کا غلبہ رہتا تھا۔ ’’اللہ اکبر‘‘ اس دور کی نمائندہ کتاب ہے اور یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں قرآن کے بعد خالص خدا کی عظمت کے مضامین پر مشتمل اوّلین کتاب ہے۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: اس دور میں مولانا کا موقف یہ تھا کہ خدا کی عظمت اور خدا کی قدرت کا اتنا چرچا کیا جائے کہ لوگ دريافت کی سطح پر خدا اور دین کو پانے والے بن جائیں۔ کیونکہ اصحابِ رسول نے دین کو خدا کی دریافت کی سطح پر پایا تھا۔ اس دور میں:
1۔ الرسالہ برصغیر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا دینی پرچہ بن گیا تھا۔ 2۔ مولانا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کچھ حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی۔ 3۔ مولانا کے خطابات میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی مدارس کے طلبا و فارغین کا ایک ہجوم شریک ہوتا تھا۔ شاید یہ بھیڑ اس لیے جمع ہوتی تھی کہ مولانا عظمتِ خدا کے ساتھ ساتھ، عظمتِ رسول، عظمتِ اسلام، عظمتِ صحابہ، عظمتِ مومن اور اسلام دورِ جدید کا خالق، جیسے مسلمانوں کے پسندیدہ موضوعات پر بھی بات کرتے تھے، شاید انہیں مولانا کی تحریروں میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اور زوال یافتہ قوموں کے لیے ایسے موضوعات میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues