بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۴
سے وافر حصہ اللہ نے مولانا کو عطا کیا تھا۔ چنانچہ تعمیر ملت کے لیے پر حکمت مضامین پر مشتمل مولانا نے جو مثبت کتابیں لکھیں وہ اردو زبان میں لکھی گئی شاہکار کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے، راز حیات، رہنمائے حیات، تعمیر حیات، کتاب زندگی، روشن مستقبل اور راہیں بند نہیں وغیرہ۔ ان کتابوں سے انفرادی سطح پر تو مسلمانوں نے خوب استفادہ کیا، مگر اجتماعی مسائل کو حل کرنے میں وہ اسی سنجیدگی کا ثبوت نہ دے سکے۔ اسی لیے اجتماعی ملی مسائل کا حل بھی قرآن وسنت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں مولانا نے اپنی درجہ ذیل کتابوں میں پیش کر کے ملت کی مستقل رہنمائی کا سامان بھی کر دیا۔ جیسے، ہندوستانی مسلمان، قیادت نامہ، تصویر ملت، خلیج ڈائری، صبح کشمیر، کشمیر میں امن، وغیرہ۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: ملی مسائل پر مولانا کا موقف شروع ہی سے بالکل واضح رہا۔ مگر بدقسمتی کہیے کہ کسی نے اس کو سمجھنے کی ذرا بھی زحمت نہ کی۔ ورنہ مسلمانان ہند کی تاریخ بربادی کے بجائے تعمیر نو کی تاریخ ہوتی۔ مولانا کے نزدیک قرآن وسنت میں جس طرح ذکر و عبادت کے احکام موجود ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے اجتماعی امور کی رہنمائی بھی موجود ہے۔ اسی کی روشنی میں ان کو حل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ اس دور میں:
1۔ الرسالہ کی اشاعت بہت کم ہوگئی۔ مگر مولانا نے اس کی پرواہ نہ کی۔ یہ واقعہ مولانا کی بے لوث ملی خیر خواہی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
2۔ مولانا کو بدنام کرنے کا لوگوں کو بہترین موقع مل گیا۔ چنانچہ ملت کے نادان دوستوں نے اپنی سادہ لوحی سے طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگا کر مولانا کو خوب بدنام کیا اور عوام کو مولانا سے بدظن کرنے کا کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا۔ اس کی وجہ سے ملت کو تو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ عنداللہ وہ ان الزامات کو کیسے ثابت کر پاتے ہیں۔
3۔ مولانا کے گرد ہر طرح کے لوگوں کی جو بھیڑ اکٹھا ہوگئی تھی وہ غبار کی طرح چھٹ گئی۔ اس دور کو تحریک الرسالہ کا سب سے مشکل ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہی دور الرسالہ تحریک کی مضبوطی اور تقویت کا اصل دور ہے۔ اس لیے کہ اس دور میں جو بھیڑ جمع تھی وہ تو چھٹ گئی اور جنھوں نے ’’علی وجہ البصیرۃ‘‘ اس مشن کو اختیار کیا تھا، وہی لوگ جمے رہے اور مولانا کے مستقل ساتھی بنے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues