بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۷
مولانا وحید الدین کی فکر کا ایک مطالعہ خالد محمود، کشمیر، پاکستان غالباً 1990ء کی بات ہے جب میں نے مولانا وحید الدین کی کتاب رازِ حیات کا مطالعہ کیا۔ پھر تقریباً تین سال تک میں بار بار اس کتاب کو پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی دیگر کتابیں بھی میں نے حاصل کیں اور سب کا مطالعہ کیا۔ آج میں نے مولانا کی ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ آپ کی کتابیں ایک بار نہیں بار بار پڑھنے کے لیے ہیں۔ ان کو بار بار پڑھ کر ان سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے ۔ آپ کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔ (1) غیر مسلموں کو دعوت کے ذریعے دائرہ اسلام میں لانا آپ کی فکر کی بنیاد ہے۔ (2) آپ کا یہ کہنا ہے کہ غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا نہ صرف اللہ کا حکم ہے بلکہ اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے کے بعد ہی ہمیں دنیوی اور اخروی ترقی ملے گی۔ (3) غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے مسلمانوں کو اپنے رویے اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ (4) رویے میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ یک طرفہ طور پر اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کرنا ہے۔ (5) سوچ میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں پوری خیر خواہی کے ساتھ دلی طور پر غیر مسلموں سے ہمدردی کرنی ہے۔ (6) جب ہم اپنے ظاہر و باطن میں غیر مسلموں سے ہمدردی کریں گے تو جوابی طور پر وہ بھی اسلام کے قریب آئیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کریں گے ۔ (7) مسلمانوں کو اپنے مذہبی روایتی ڈھانچے سے اوپر اٹھ کر حقیقی اسلام کو دوبارہ دریافت کرنا چاہیے۔ (8) اسلام کو دوبارہ دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ باپ دادا سے ملے ہوئے دین کو ذاتی طور پر سمجھا جائے اور پھر ذاتی دریافت کے طور پر پورے یقین کے ساتھ اس کو مانا جائے۔ تو اس طرح ماننے سے ہی ہم صحیح مسلمان بن سکتے ہیں اور دوسروں کو اس کا حقیقی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ (9) مولانا کے نزدیک تلوار کے ذریعے کسی کو فتح کرنا جہاد کی ایک معمولی شکل ہے، جب کہ دلیل کے ذریعے کسی کو قائل کرنا جہاد کی سب سے بڑی اور عظیم شکل ہے۔ (10) مسلمانوں کے پاس سب سے بڑی دلیل قرآن پاک ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues