بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۹
بڑے نانا سے میں نے کیا سیکھا مزطرب خان، فیض آباد مولاناوحید الدین خاں صاحب میرے نانا کے بڑے بھائی تھے۔ میرے نانا تین بھائی تھے، ان میں مولانا دوسرے نمبر پر تھے اور میرے نانا تیسرے نمبر پر (تفصیل کے لیے دیکھیے الرسالہ مئی 2012)۔ مولانا سے میرا شعوری تعلق اس وقت شروع ہوا جب مجھے دہلی میں ایک مہینہ رہنے کا موقع ملا۔ اس وقت میں teenager تھی۔ اس دوران روزانہ میں مولانا سے ملتی رہی۔ وہ ایک مہینہ میری زندگی کا turning point تھا۔ اور وہ میری سب سے cherished memory ہے۔ میں اپنے آپ کو بالکل nothing سمجھتی تھی، مگر مولانا نے مجھے movtivate کیا اور مجھے یہ احساس دلایا کہ میں بھی کچھ کر سکتی ہوں۔ اس دوران مولانا نے میری زندگی میں خدا کا احساس بھر دیا۔ ایک مہینہ گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مستقبل میں مجھے اس خدائی مشن کا حصہ بننا ہے۔ اللہ نے نانا کے ذریعے میری upbringing کروائی، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ نانا کے ذریعے مجھے دنیا کی life of desire سے دوری ہوئی اور خدا کو پانے کا desire بڑھتا گیا۔ انھوں نے میرے اندر بہت کم عمر میں ہی God-oriented زندگی گزارنے کا بیج ڈال دیا تھا۔ ان کے ذریعے میں نے وہ informal education پائی جو سب سے زیادہ important ہے۔ مگر افسوس کہ لوگ اس پر فوکس نہیں کرتے ہیں۔ انسان formal education میں کتنی ہی ڈگری حاصل کر لیتا ہے مگر میں نے یہ جانا کہ informal education سے ہی انسان اعلی انسان بن سکتا ہے۔ مولانا سے جو کچھ میں نے سیکھا، ان میں سے چند باتیں یہ ہیں: 1۔ ہر چیز کو خدا سے connect کرنا خدا سے قریب کرتا ہے۔ ہر سچویشن کو پیچ کرنے میں ہیلپ کرتا ہے اور ہمیں right path پر رکھتا ہے۔
2۔ لوگ دوسروں کی غلطیوں کو point out کرتے ہیں۔ میں نے مولانا سے سیکھا کہ اپنی غلطیوں کو ڈھونڈو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues