Al-Risala · August 2021 · page 211

بابا چلے گئے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۱

اسلام کا داعی بے مثل نعیم بلوچ، لاہور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پر سب سے اچھی تنقید مولانا وحید الدین نے کی ہے۔ آپ تعبیر کی غلطی پڑھیے“۔ سال تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب استاد محترم (جاوید احمد غامدی) سلطان پورہ میں تشنگانِ علم کے لیے آسودگی کا باعث تھے۔ اور ہماری ان سے ملاقات کو شاید ابھی دو ڈھائی برس ہی ہوئے تھے۔ استاد محترم کی بہت سی عنایات میں سے ایک یہ بھی ہے وہ ہمیں مختلف اہل علم کی تصنیفات اور عالم اسلام کی علمی شخصیات سے متعارف کراتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا وحید الدین سے تعارف انہی کی وجہ سے ہوا۔

تعبیر کی غلطی بڑی مشکل سے ملی۔ معلوم ہوا کہ ایک جماعت کے کچھ لوگوں نے کتاب کے شائع ہوتے ہی بازار سے اس کے زیادہ تر نسخے اٹھا لیے تھے۔

اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم پایا۔ پہلے حصے میں مولانا وحید الدین خاں نے وہ داستان ہوش ربا بیان کی تھی کہ وہ کیسے اس کتاب کو شائع کرنے پر مجبور ہوئے۔ اسے پڑھنے کے بعد قاری مولانا مودودی کے بارے میں خوف ناک تحفظات کا شکار ہو سکتا ہے یا وہ مولانا وحید الدین کو جھوٹا قرار دے کر کتاب ایک طرف رکھ دے گا کہ بانی جماعت اسلامی ایسے کردار کے مالک نہیں ہو سکتے۔ میں تو یقیناً کتاب ایک طرف رکھ دیتا، لیکن میرے ذہن میں مولانا مودودی سے انتہائی عقیدت کے جذبات کچھ کچھ مجروح ہو چکے تھے۔ اصل میں، جماعت اسلامی سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے اس کی تاریخ کا مطالعہ بھی کرتا تھا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ ماچھی گوٹھ (17 تا 21 فروری 1957ء) کے اہم اجلاس کے بعد مولانا مودودی نے جو کچھ کیا، اس کی کیا اخلاقی توجیہ کی جاسکتی ہے؟ واضح رہے کہ 53-1951 کے صوبائی انتخابات میں جماعت اسلامی نے بڑے زور شور سے حصہ لیا تھا۔ لیکن اسے توقعات سے برعکس انتہائی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس پر پیدا ہونے والی بے چینی کا نتیجہ ایک کمیٹی کی شکل میں نکلا جس نے جماعت کے اراکینِ شوریٰ سے ملاقاتوں کے بعد اپنی یہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page