Al-Risala · August 2021 · page 212

بابا چلے گئے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۲

سفارشات پیش کیں کہ جماعت اسلامی کو عملی سیاست میں آنے سے پہلے معاشرے کی فکری اور اخلاقی تربیت کے کام کو اولیت دینی چاہیے۔ لیکن مولانا مودودی نے انتہائی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی انداز میں کمیٹی کی ان سفارشات کے خلاف فضا پیدا کر دی۔ اس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے بڑے بڑے رہنما جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ ان میں مولانا امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد بھی شامل تھے۔ اس داستان کو پڑھنے کے بعد جماعت اسلامی کی تاریخ سے واقف ہر غیر جانب دار شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ مولانا مودودی اپنے مخصوص دینی نظریات اور حکومت الہیہ کے خود ساختہ تصور کی ترویج کے لیے بہت سے اخلاقی اصولوں کے قائل نہیں ہیں اور جماعت اسلامی اصل میں جمہوری اقدار کے بجائے بعض انتہائی فاشسٹ اور آمرانہ خصائص کو دین کا حصہ سمجھتی ہے۔ اور اس حقیقت کی گواہی اسے جماعت کی عملی جدوجہد کی تاریخ کے ہر صفحے پر بجا ملتی ہے۔ تعبیر کی غلطی کا پہلا حصہ اس کا دستاویزی ثبوت ہے۔ تعبیر کی غلطی کا دوسرا حصہ ایک اعلیٰ درجے کی علمی تحقیق ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جماعت اور مولانا مودودی پر متعدد علماء کی علمی تنقیدیں نکلیں تھیں لیکن یہ محض تاثراتی تھیں۔ علماء ان پر کامیاب علمی نقد نہیں کر سکے تھے۔ لیکن مولانا وحید الدین خاں نے اس تنقید کا حق ادا کر دیا۔ انھوں نے بتا دیا کہ مولانا مودودی کی فکران کی کتاب ’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات‘ پر استوار ہے۔ اس میں انھوں نے الہ، رب، عبادت اور دین کو زیر بحث لا کر ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے کہ ان چار اصطلاحات پر قرآن کا درست فہم منحصر ہے لیکن امتداد زمانہ سے ان کا درست فہم اس قدر گہنا چکا ہے کہ لغات میں بھی وہ فہم موجود نہیں رہا جو اصل میں تھا۔ اس لیے دین کی تعبیر وہ نہیں رہی جو حقیقت میں تھی۔ اس کے بعد انھوں ان اصطلاحات کی وضاحت کی اور اپنے تئیں ان کی معنی متعین کیے۔ اس کے بعد مولانا وحید الدین خاں نے دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ مولانا مودودی کی یہ تفہیم بالکل غلط ہے۔ یہ خود ساختہ ہے۔ اس سے دین کی ایک نئی تعبیر سامنے آئی ہے جس کو انھوں نے بعد میں اپنی دوسری کتاب میں ’دین کی سیاسی تعبیر‘ کا نام دیا۔ کیونکہ مولانا مودودی دین کو ’ریاست‘، عبادت کو ’ٹریننگ کورس‘ اور رب کو ایک ایسی ذی اقتدار ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی مرضی کو آخری معنوں میں زمین پر نافذ دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس تعبیر کی روشنی میں دین کی تشریح یہ ہوئی کہ اصل میں یہ دنیا اللہ کی ریاست ہے۔ اللہ تعالیٰ کو الہ اور رب ماننے کا تقاضا ہے کہ اس کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page