Al-Risala · August 2021 · page 216

بابا چلے گئے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۶

سے تعمیر ممکن نہیں، ہتھیار خریدنے والے ہتھیار بنانے والوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ شور مچانے، احتجاج کرنے والے غور و فکر سے محروم رہتے ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں کے لٹریچر اور علمی کاوش کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کی کردار سازی میں، اسلام کی دعوت کو پھیلانے کے لیے، مسلمانوں کے اندر مثبت ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے جو کام کیا اس کی مثال شاید ہی اسلام کی علمی، تحریکی اور سماجی تاریخ میں مل پائے۔ (یہ ایک لمبا موضوع ہے، جس پر مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے) اتنی عظیم شخصیت کے ساتھ ادنیٰ سا تعلق بھی بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اس لیے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر انھیں نوے کی دہائی میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ان سے خط و کتابت کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی اور انھوں نے آخر کار ہماری دعوت قبول کی اور وہ پاکستان تشریف لائے۔ میری خط و کتابت کا ذکر انھوں نے اپنے سفر نامے میں بھی کیا جو میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات ہے کہ میں اللہ کے فضل و کرم سے مولانا وحید الدین خاں صاحب جیسی عظیم شخصیت کو پہچان پایا۔ جب کہ لوگوں نے ان پر بے دینی، کفر و فسق، الغرض ہر قسم کے شبہات کے پردے ان کے اوپر بطور الزام لوگوں نے ڈال رکھے تھے۔ اس کے باوجود مسلسل دعا سے مدد لے کر ان کی اصل شخصیت کو پہچانا اور پھر لومۃ لائم کی پرواہ کیے بغیر ان سے جڑ گیا اور حتی المقدور استفادہ کیا۔ جب مجھ پر کھلا کہ مولانا عین قرآن و حدیث پر چلنے والے ہیں۔ ان کا الرسالہ عصری اسلوب میں اسلام کی تشریح ہے۔ تو پھر میں بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ان کو پڑھنے لگا اور لوگوں کو بھی مطالعہ کے لئے ابھارتا رہا۔ لوگوں نے مجھے اندھی تقلید کے طعنے دیے ان سب کے باوجود میں ان سے جڑا رہا اور ان کی کتابوں کو پھیلاتا رہا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ جو مجھ کو مقلد کہتے ہیں وہ دراصل مولانا کو جانتے نہیں اگر جانتے ہوتے تو وہ بھی وہی کرتے جو میں کر رہا تھا۔ اصل کمی مجھ میں نہیں تھی بلکہ مجھ کو طعنہ دینے والوں میں تھی۔ (مولانا عبد الباسط عمری، گلبرگہ)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page