Al-Risala · August 2021 · page 217

بابا چلے گئے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۷

مولانا وحید الدین خان ، اپنی تصانیف کی روشنی میں طاہر محمود، پاکستان میری عادت ہے کہ کہیں بھی کوئی کتاب پڑی ملے تو اسے اٹھا کر سرسری طور پر ضرور پڑھا جائے۔ ایک دفعہ اسی طرح میں نے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس پڑی ہوئی کتاب اٹھا کر دیکھی تو مجھے اس کتاب میں کچھ خاص لگا۔ جب اس کا مطالعہ شروع کیا تو ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ لی۔ کتاب اتنی اچھی لگی کہ اس پر دیے ہوئے رابطہ نمبر پر کال کر کے میں نے مولانا کی تمام کتابیں منگوالی۔ کوئی سو سے زائد کتابیں ہوں گی۔ چند دنوں میں کتابیں وصول ہوگئیں اور الحمد للہ دن رات ایک کر کے تمام کتب مطالعہ کر لیں۔ ان کی کتب کا حاصل مطالعہ اور خلاصہ مندرجہ ذیل ہے : 1۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ بندے کو اس کے رب کا تعارف کروانے اور اس سے جوڑنے پر انہوں نے بہت عمدہ اور پر اثر لکھا۔ مجھے اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت پر پڑھ کر سب سے بڑھ کر سکون ملتا ہے اور میں نے ان کی کتب میں یہ چیز سب سے بڑھ کر پائی ہے۔ آپ ان کی کتابیں ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’الاسلام‘‘ پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے اس موضوع کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔

2۔ ان کا دوسرا اہم موضوع ترغیب و تحریک (motivation) ہے۔ بلاشبہ میں نے اس موضوع پر ان سے بہتر تحریر کسی دوسرے مذہبی انسان کی نہیں دیکھی۔ ’’راز حیات‘‘، ’’کتاب زندگی‘‘، اور ’’مقصد حیات‘‘ اس موضوع پر کسی شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 3۔ قرآن مجید پر انہوں نے کافی کام کیا۔ انھوں نے ’’تذکیر القرآن‘‘ نامی ترجمہ اور مختصر تشریح لکھی جو کہ عام فہم ہے۔

4۔ اس کے علاوہ اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر ان کا کام بہت گراں قدر ہے۔ 5۔ انسانیت کو اسلام کی دعوت پر امن طریقے اور حکمت سے دینے پر ان کا کافی زور رہا ہے۔ اس پر انھوں نے کافی کتب تحریر کی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page