بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۸
اس کے علاوہ بھی ایسے بہت سے موضوعات ہیں جن پر انہوں نے بہت کچھ لکھا اور خوب لکھا۔ لیکن یا درہے کہ میں نے اپنے ذوق کے مطابق خلاصہ پیش کیا ہے۔
میری رائے میں وہ اس دور کے ایک عظیم اور درد دل رکھنے والے انسان تھے اور اللہ کریم نے ان سے اپنے دین کا بہت بڑا کام لیا ہے جس سے رہتی دنیا تک استفادہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس موقع پر ان کا دنیا سے یوں رخصت ہونا کسی حکمت سے خالی نہیں ہے کہ ہم لوگ کسی کے کام کو اس کے دنیا سے جانے کے بعد ہی جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ جو شخص بھی تعصب سے بالاتر ہو کر تاریخ کے اس اہم اور نازک موڑ پر ان کو مطالعہ کرے گا تو ایک نئی دنیا سے متعارف ہوگا اور ان کی بیش بہا خدمات کا اعتراف کیے بنا رہ نہیں سکے گا۔ (بشکریہ ماہنامہ انذار، کراچی) مولانا وحید الدین خاں ، ایک ایسے عالم جنہوں نے دین کی تبلیغ کے ساتھ زندگی آموز کتابیں بھی لکھیں اور بتایا کہ زندگی میں جامد فقہی احکام کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ان کے اسفار، ان کی ڈائریاں اور انگریزی اخبارات سے زندگی آموز واقعات پر نوٹ سب قابل مطالعہ ہیں۔ بہت سال ہوئے کشمیر پر ان کا موقف پڑھا تھا تو طیش آیا تھا۔ آج سوچو تو کھا کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ درست کہتے تھے۔ زندگی اور سیاست سے متعلق ان کے جیسی بصیرت کسی اور عالم میں شاید ہی ہو۔ تعبیر کی غلطی، کیسی مدلل کتاب ہے۔ انداز ایسا جیسے کہتے ہوں کہ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ کوئی زور زبردستی نہیں، کوئی غصہ نہیں۔ یار عزیز ابوعمش ان کے پرستار تھے اور انھوں نے ہی ان کی تحریروں سے متعارف کرایا۔ ایک بار دیکھا کہ استنبول میں غلطہ پل کے سامنے مسجد میں ان کا کیا قرآن کا انگریزی ترجمہ مفت بٹ رہا تھا۔ اللہ کوششوں کو قبول کرے (سید کاشف رضا) آہ ۔۔ مولانا آپ سراپا محبت تھے، آپ پر اللہ کی رحمت ہو، ہمارے پاس تو آپ جیسا اب ایک بھی نہیں ۔۔ آپ بھی چلے گئے۔ ۔ بلاشبہ مولانا کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ۔ اب اس اسلوب کی خوشبو مزید کبھی نہیں اڑے گی کہ جس کا سحر قاری کو باندھ کے رکھے رہتا تھا۔ ۔ بسا اوقات کنٹینٹ سے اختلاف اپنی جگہ، مگر پریزینٹیشن آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ (عزیز سالار، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues