Al-Risala · August 2021 · page 219

بابا چلے گئے

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱۹

مولانا وحید الدین خاں کی فکر اور میرے تاثرات سید اسفندیار، پاکستان 21 اپریل 2021 کو مولانا وحید الدین خاں صاحب کا انتقال ہو گیا۔ وہ دن بھی مجھے یاد ہے جس دن پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب آئی تھی۔ یہ 2003 کی بات ہے، رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں میں چند دوستوں کے ساتھ اعتکاف کے لیے بیٹھا تھا۔ میرے ایک دوست کے پاس مولانا صاحب کی کتاب اللہ اکبر موجود تھی۔ اس نے مجھے پڑھنے کے لیے دی۔ میں نے اس کتاب کے دو تین صفحات پڑھے اور اچانک ہی میری کیفیت بدل گئی۔ مجھے ایسا لگا کہ اچانک میں نے کوئی چیز پالی ہو، جس کو میں بچپن سے ڈھونڈھ رہا تھا۔ جیسے یہی کتاب میرے سوالوں کا جواب بن گئی ہو، میں نے محسوس کیا کہ جیسے اچانک میں نے راستہ ڈھونڈھ لیا ہو، جس کے سہارے میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہو جاؤں گا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی ان دیکھی طاقت نے میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب تھما دی ہو اور سرگوشی کی زبان میں مجھ سے کہہ رہا ہو کہ اس کتاب کو پڑھو۔ میں نے اس کے بعد ساری کتاب ایک ہی رات میں ختم کر ڈالی اور اگلے دن دوست سے کہا اس مولانا صاحب کی کوئی دوسری کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دو۔

میری جب مولانا صاحب کی فکر سے شناسائی ہوئی تو اس پر میں خدا کا شکر بجا لایا تھا کہ یہ خدا کی طرف سے میرے اوپر مہربانی ہے اور اس سے بھی زیادہ blessing میں سمجھتا ہوں جب میں اپنی جوانی کے ابتدائی سالوں میں تھا میں اس وقت انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا جب مولانا صاحب کی فکر سے روشناس ہوا۔

مولانا صاحب کی مثبت طرزِ فکر سے میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ شاید اپنے تاثرات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ بہت کم ہیں اور بات بہت بڑی:

1۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے آج کے دور میں خالص اسلام کو جانا۔

2۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کو تجرباتی کیفیت کے طور پر دریافت کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page