بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۰
مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کی سچائی کو بے آمیز شکل میں دیکھا۔ مولانا صاحب کی فکر کو پڑھنے کے بعد میری بے قیمت زندگی مجھے قیمتی نظر آنے لگی۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے پایا کہ میری اندرونی تڑپ نے باہر کی دنیا سے مطابقت کرلی ہو اور جیسے میرے سوالوں کا جواب مجھے مل گیا ہو۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے دورِ حاضر کے عصری اسلوب کو بہتر طور پر سمجھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری امت مسلمہ میں واحد مولانا صاحب کا لٹریچر ہے جو جدید افکار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ مولانا صاحب کے لٹریچر کے مطالعے کے بعد میں نے اپنی پوری سوچ میں مثبت تبدیلی محسوس کی اور اپنے دنیوی معاملات کو مثبت طرزِ فکر سے حل کرنے کی کوشش کی۔ مولانا صاحب کے فکری نظریات سے دینِ اسلام کو میں نے واحد مستند دین سمجھا۔ مولانا صاحب کا لٹریچر آدمی کو ایک حقیقت پسند انسان بناتا ہے۔
میں نے مولانا صاحب کے لٹریچر سے خدا کے منصوبہ تخلیق کو بہتر انداز میں سمجھا۔ مولانا صاحب کے لٹریچر سے انسان کا ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر مولانا صاحب کے اتنے چاہنے والوں کو دیکھ کر رشک آیا۔ کسی بڑی شخصیت کے اس دنیا سے چلے جانے کا بعد اس شخصیت کے ساتھ وفاداری کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے مشن کو زندہ رکھا جائے، اور اس کو مسلسل چلاتے رہنا چاہیے ۔ یوں تو دنیا میں بہت ساری شخصیات آئیں اور چلی گئیں، بعض اپنے زمانے میں مشہور بھی تھے لیکن زمانے نے جب کروٹ بدلی تو اس شخصیت کو کوئی پہچاننے والا بھی نہ تھا، اور بعض ایسے ہیں کہ جن کا نام اب بھی دنیا کے ہر کونے میں زندہ ہے۔ انسان اپنی جسمانی زندگی کے حساب سے اس دنیا میں محدود مدت کے لیے آتا ہے لیکن انسان اگر اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو فکری و عملی حساب سے وہ ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے۔ شخصیات کا دارو مدار اس کے فالورز کی وفاداری و بے وفائی پر ہوتی ہے۔ فالورز وفاکر لیں اور مشن کو زندہ رکھیں تو شخصیت ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں۔ (سراج احمد بدینی)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues