بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۱
مولانا وحید الدین خان کے اہم افکار کا خلاصہ مولانا ابوالمرجان فیضی ، مالیگاؤں 1- مثبت منفی: حالات و واقعات چاہے کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہوں، سازشوں کی باد صر چلے، پتھروں کی بارش ہو، آپ ان سے مثبت پیغام لو، پتھروں سے سیڑھی بنا کر بلندی کی طرف چڑھ جاؤ، ان پر اخلاق کا اتنا دباؤ ڈالو کہ ان پتھروں سے بھی پانی نکلنے لگے .. حل یہی ہے اور یہاں ہے۔ 2- کنڈیشنڈ مائنڈ و ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ : مخصوص حالات و ظروف ، بہت سے حادثات و واقعات، بعض افراد واقوام کے سابقہ برتاؤ کے تناظر میں ہم پہلے سے طے کیے رہتے ہیں کہ اگر ادھر سے کوئی چیز آئے گی تو ہمارے خلاف ہی ہوگی۔ دماغ صاف رکھو۔ ہمارا دماغ پیار محبت اور اچھی و مفید معلومات کے لیے بنا ہے، نفرت کو ذخیرہ کر کے رکھنے کے لیے نہیں۔ ہر نئے واقعے کو نئے سرے سے لو، اسے اچھا شگون مانو، اس کو بھلائی پر محمول کرو، اس سے وہ نتائج نکالو جو ہمارے حال و مستقبل کے لیے مفید ہو۔ پہلے سے موجود معلومات کی بنیاد پر دماغ کو ہر نئے واقعے کی آٹو کرکشن کی اجازت نہ دو۔
3- خدا کی معرفت : خدا میں جیو، اسے پہچانو، اپنی ذات میں خدا کو پہچانو، پیش آنے والے واقعات میں خدا کو ڈھونڈھو، فطرت میں خدا کو تلاش کرو، دریاؤں، صحراؤں، بستیوں، تنہائیوں، اونچائیوں، پستیوں، قدرتی مناظر اور فطرت کے حادثات میں خدا کی معرفت حاصل کرو۔ اس سے نتائج اخذ کرو اور سبق لو۔
آہ... مولانا وحید الدین خان کی وفات نے رنجیدہ کر دیا ہے ... کیا کمال کے شخص تھے ۔ بر صغیر کے ایسے ماحول میں انہوں نے برداشت اور میانہ روی کا درس دیا کہ جہاں شدت پسندوں کا غلبہ تھا ... کتنے ہی لوگ ہوں گے جوان کی فکر کے سبب شدت پسندی سے تائب ہوئے ہوں گے (انوار الحسن ، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues