Al-Risala · August 2021 · page 222

مولانا وحیدالدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۲

ایک قاری الرسالة کی ڈائری نذیر الاسلام پلوامہ کشمیر زندگی ایک نازک امتحان انسان اپنی اعلی صلاحیتوں اور بھاری ذمہ داریوں کے اعتبار سے خدا کی شاہ کار مخلوق ہے۔ انسان نے عظیم صنعتی انقلاب برپا کر کے دنیا کو جنت کا نمونہ بنا مگر یہی انسان کا مقصد تخلیق نہیں ہے۔ انسان کو خدا نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور اس دنیا کو اس کے لیے امتحان گاہ بنایا ہے۔ عبادت اپنے حقیقی معنوں میں اپنا سب کچھ خدا کے حوالے کر کے خدا کو اپنا سب کچھ بنانا ہے۔ مگر خدا نے انسان کو عمل کی آزادی دے رکھی ہے۔ انسان کے لیے اپنی آزادی کو غیب میں چھپے ہوئے خدا کے حوالے کرنا ہمیشہ انتہائی مشکل کام رہا ہے۔ اس میں جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ذبح کرنا، ہلاک کرنا، کچلنا اور رونا پڑتا ہے۔ تاکہ آخرت میں خدا کے انعام کے طور پر اس کو جنت کی ابدی زندگی حاصل ہو۔ مگر تمام انسان سوا ان لوگوں کے جو سچے مومن ہوں، اس عظیم قربانی کا ثبوت دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں اور بالآخر جہنم کی ہولناک آگ اور دردناک عذاب سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ دور حاضر میں فتنوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں کیسے جہنم سے بچ کر جنت کا باسی بنایا جائے۔ مولانا وحیدالدین خان نے زندگی بھر یہی منزل دکھانے کا کام کیا ہے۔ مگر قرآن کے الفاظ میں، وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (41:35)۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔

مولانا وحیدالدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں

"دو احساسات ہر وقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں۔ ایک دعوت دین اور اصلاح امت کی ذمہ داری، دوسرے آخرت کی جواب دہی کا مسئلہ۔ "

"ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں۔ اسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طور پر داخل ہونا ہے اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page