مولانا وحیدالدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۳
آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرا بھی ہمت نہیں۔ ‘‘ ”ایک صاحب نے مولانا وحید الدین خان سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہا ہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟ میری دعوتی جدوجہد تقریباً 50 سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں، میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہوگئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا، مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ ہم نے بانسری بجائی مگر تم نے رقص نہیں کیا، ہم نے ماتم کیا مگر تم نہیں روئے‘‘۔ خدا کی دریافت 1۔ زندہ اور طاقتور خدا پر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے اور جاننے والے بھی اس کو نہیں جانتے۔ خدا مکمل طور پر ظاہر ہونے کے باوجود مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنی تخلیق میں مکمل طور پر ظاہر ہے مگر اپنی ذات میں وہ مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔ براہ راست طور پر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک ممکن ہے۔ 2۔ انسان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے رابطہ قائم کرنے کا کیا ذریعہ ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسان کی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلا شبہ سب سے بڑا مفلس ہے۔ خواہ بظاہر اس نے ساری دولت کے ڈھیر کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔
3۔ اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پا لیا ہے اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم رہا۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں وہ گویا محرومی کی آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں جہاں محرومی ہی محرومی ہے اول بھی اور آخر بھی۔
خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور اس کے لیے آنسو بہانے کی کیفیت پیدا کرنے کے زیادہ مؤثر ذرائع ہیں جو آدمی کے اپنے پاس موجود ہیں اور ہر وقت حاصل ہو سکتے ہیں۔ وہ مؤثر ذرائع یہ ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues