مولانا وحیدالدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۴
۱۔ قرآن میں تدبر کرنا۔
۲۔ کائنات میں غور وفکر کرنا۔
۳۔ ہر آن اپنے رب کو یاد کرنا۔
۴۔ نماز میں ہمہ تن مشغول ہونا۔
۵۔ دعا واستغفار میں اپنے آپ کو لگائے رہنا۔
۶۔ خدا کی یاد میں کھو جانا۔
۷۔ صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنا۔
۸۔ آخرت کی طلب میں اپنے ذوق، اپنی عادتوں اور اپنے عیش و آرام کو ترک کرنا۔ ۹۔ تنگی کے باوجود خدا کی خوشنودی میں خرچ کرنا۔
۱۰۔ دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس کے خدائی مشن کو اپنا مقصد بنانا۔ اس قسم کے بے شمار مواقع ہیں جو ہر وقت اور ہر جگہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک آپ کو تڑپا دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں خدا کے فرشتے ترقی ایمان کی بے حساب غذائیں تقسیم کر رہے ہیں۔
خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہا ہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں۔ یہاں تک کہ شاید میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کو پالیا ہے۔ یہ موضوع بلاشبہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع ہے۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ میں سب سے زیادہ توحید کے موضوع پر سوچتا ہوں، میں سب سے زیادہ آخرت اور جنت کی باتوں میں گم رہتا ہوں۔ آدمی کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض اپنے آپ پر شک ہو تو ہو لیکن اللہ رب العالمین کے وجود پر ادنی درجہ میں بھی اس کے اندر کوئی شک پایا نہ جائے ۔ اس کو اس بات کا زندہ یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی پکڑ میں ہے ۔ یہ یقین و ایمان کسی کو ذکر و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یقین کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
جہاں تک انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا انسان کا وجود۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues