Al-Risala · August 2021 · page 227

عظمتِ خداوندی کا اعتراف

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۷

عظمتِ خداوندی کا اعتراف

تاریخِ اسلام میں سامانی سلطنت کا ایک حاکم نصر بن احمد بن سامان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نیشا پور کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک جشن منعقد کیا۔ جب وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق ، تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ مجلس میں ایک عالم موجود تھے۔ انھوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ انھوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا، جس میں یہ آیت بھی تھی : یَوْمَ ہُمْ بَارِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (16: یعنی جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے ہے ، اللہ واحد و قہار کے لیے ۔ مذکورہ عالم تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو سلطان نصر بن احمد پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر تخت سے اتر پڑا ۔ تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدے میں گر گیا، اس نے کہا: اے میرے رب، بلاشبہ بادشاہی تیری ہے، نہ کہ میری۔ پیغمبرِ اسلام نئے انداز میں مولانا وحید الدین خان صاحب نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ پر کئی اعلیٰ پائے کی کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں مولانا نے تاریخ میں پہلی بار پیغمبرِ اسلام کو بطور انسانی ماڈل پیش کیا ہے۔ اس سے پہلے لوگ پیغمبرِ اسلام کو ایک فوق الفطری اور پراسرار شخصیت کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ حیاتِ طیبہ کی اس قسم کی توجیہ اور تشریح جدید ذہن کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے اور ان کی انسانی عظمت کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ مولانا نے پیغمبرِ اسلام کو فوق البشر کے بجائے اُسوہ البشّر (انسان کے لیے نمونہ) کے طور پر پیش کیا۔ اس کے علاوہ مولانا نے دورِ جدید میں ان سنتوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق اعلیٰ انسانی اقدار سے ہے۔ ان میں دو سنتیں قابلِ ذکر ہیں۔ ایک سنت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلقِ عظیم سے ہے اور دوسری سنت کا تعلق دعوت کے درد سے۔ خلقِ عظیم کا مطلب ہے مکمل طور پر ایک طرفہ حسنِ سلوک ، جو مدعو کے دل کو جیتنے کے لیے شرطِ اول ہے۔ جہاں تک دعوت کے درد کا تعلق ہے سورہ الکہف آیت 6، سورۃ الشعراء آیت 3 اور سورہ فاطر آیت 8 کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خدا کا مومن بنانے کے لیے اتنا زیادہ بے قرار رہتے تھے گویا کہ آپ اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ اس سلسلے میں سورہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page