تجدیدی کام
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۸
الشعراء میں یہ الفاظ آئے ہیں: لَّعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (26:3) ۔ یعنی، شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے اس بات پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
تجدیدی کام
تجدید کا مطلب کیا ہے۔ اس کو مولانا نے خود اپنی کتاب میں واضح کیا ہے: تجدید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں کوئی نئی چیز نکالی جائے... حدیث میں جس تجدیدی عمل کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کو از سر نو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا۔ دین کو انسانی ملاوٹوں سے پاک کرکے اس کو اس کی ابتدائی صورت میں سامنے لے آنا جیسا کہ پیغمبر نے اس کو اپنے زمانہ میں پیش کیا تھا (تجدید دین)۔
اس اعتبار سے مولانا وحید الدین خان اس دور کے عظیم مجدد ہیں۔ اُن کے تجدیدی کارناموں میں سے چند یہ ہیں:
1۔ انسان ایک عاجز مخلوق واقع ہو ا ہے۔ وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کے لیے ایک برتر ہستی کی تلاش میں ہوتا ہے، اسی طرح انسان اپنی اُمیدوں اور تمناؤں کی تکمیل کے لیے ایک لامحدود دنیا چاہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان جس خارجی سہارے کی تلاش میں ہے وہ اس کا خدا ہے جو انسان کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے اور انسان جس کامل دنیا کو پانا چاہتا ہے وہ جنت ہے جو انسانوں کو موت کے بعد خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے نتیجے میں آخرت میں حاصل ہوگی۔ الرسالہ فکر ان دونوں تقاضوں کا مفصل اور مدلل جواب فراہم کرتا ہے۔ وہ تمام ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جو اس خدائی سچائی کو پانے میں ناکام رہتے ہیں وہ یا تو مایوسی، ناکامی اور عدم تحفظ کی زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے الرسالہ فکر آخری پناہ گاہ ہے۔ الرسالہ فکر انسان کے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب دیتا ہے۔ وہ آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردوں کو ہٹا دیتا ہے یہاں تک کہ انسان اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک کرنے لگتا ہے۔
2۔ الرسالہ فکر پیغمبرانہ مشن کی صحیح ترین تعبیر اور تشریح ہے جو عقل وفطرت کے ناقابل تردید دلائل اور شواہد پر مشتمل ہے۔
3۔ الرسالہ فکر کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں: سچائی کی تلاش، بے آمیز حق کی دریافت، معرفت
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues