تجدیدی کام
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲۹
خداوندی، انسانی عجز کی حقیقت، تزکیہ نفس اور دعوت الی اللہ۔
4۔ الرسالہ مشن اسلام کے بنیادی موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تخلیق آدم کی حقیقت اور اُس کے تقاضے، توحید، آخرت، رسالت، شہادت حق، امن اور اسلام کو درپیش جدید چیلنجوں کا تجزیہ اور اُن کا رد شامل ہیں۔ قومی، سیاسی اور عسکری اسلام کی آئیڈیا لوجی کے مقابلے میں مولانا نے امن، انسانیت اور روحانیت کی آئیڈیا لوجی دی ہے۔
5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اب کارِ نبوت کا کام آپ کے اُمتیوں کو انجام دینا ہے۔ اس لیے قرآن میں اُمّتِ محمدی کو ’’اُمّتِ وسط‘‘ بتایا گیا اور کارِ نبوت کو اُمّتِ مسلمہ کا مقصدِ وجود بتایا گیا۔ مولانا نے دعوت الی اللہ اور شہادتِ حق کے اِس قرآنی تصور کو زندہ کیا جو دورِ رسالت میں موجود تھا اور جو صدیوں سے اسلامی لٹریچر میں اپنی مربوط، مدلل اور مکمل صورت میں غائب ہو چکا تھا۔
6۔ الرسالہ مشن خالص اساسیاتِ دین پر مرکوز مشن ہے۔ یہ مشن اُن تمام فروعی اور ضمنی حد بندیوں سے اوپر ہے جن کی وجہ سے نئی نئی جماعتیں اور فرقے وجود میں آتے ہیں۔ 7۔ صاحبِ الرسالہ نے ایمان، عبادت، ذکر، تزکیہ، معرفت، خشوع اور ربانیت جیسی قرآنی اصطلاحات کی معنوی اہمیت کو نئے انداز میں پیش کیا۔
8۔ احادیثِ رسول میں اخوانِ رسول کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دورِ آخر میں دینِ حق کے اعلان واظہار کے مشن کو پورا کریں گے۔ ان لوگوں کو خدا کے فضل سے مثلِ صحابہ ایمان عطا ہوگا۔ مولانا نے اخوانِ رسول کے رول کو نمایاں کیا اور مسلمانوں کو اخوانِ رسول کی اہمیت کا احساس دلایا تا کہ وہ اس گروہ میں شامل ہو کر سعادتِ اُخروی کے اُمیدوار بنیں۔ 9۔ صاحبِ الرسالہ کا اسلوبِ بیان تجزیاتی ہے۔ اس اسلوبِ بیان کے خاص اجزا یہ ہیں سائنسی طرزِ استدلال، لفظی سے دوری، واقعیت اور مؤثر انداز میں حقائق وافكار کو ترتیب وار پیش کرنا۔ تجدید و احیائے دین کے سلسلے میں مولانا کے ذریعے زمانے کے معیار کے مطابق انتہائی طاقتور لٹریچر وجود میں آچکا ہے جو دنیا کے تمام اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے کافی ہے۔ داعیانِ حق کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم اس لٹریچر کو حق سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues