Al-Risala · August 2021 · page 231

تجدیدی کام

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۱

مولانا میری نظر میں مولانا عبد اللہ چترویدی، لکھنؤ مولانا وحید الدین خاں صاحب ایک عظیم شخصیت تھے۔ میں نے مولانا سے زندگی میں صرف ایک مرتبہ ملاقات کی ہے اور ان کی تقریباً ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں ہیں۔ جن میں، سے دوسو کے آس پاس میں نے پڑھی ہیں۔

مولانا پر جو بہت سارے الزامات ہیں کہ انھوں نے یہ لکھا ہے یا فلاں بات لکھی ہے۔ لیکن جب میں نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو پتا چلا کہ مولانا نے لکھا کچھ اور ہے اور الزامات بے بنیاد لگائے جا رہے ہیں۔ ایک جگہ مولانا نے لکھا ہے کہ آج تک جتنے لوگوں نے میرے اوپر اعتراض کیا ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جو یہ بتا سکا ہو کہ آپ کی یہ بات قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹی چیزیں پھیلائی جارہی ہیں۔

اس سے اندازہ ہوا کہ آدمی جب کسی کی مخالفت پر آتا ہے تو وہ یہ بھی نہیں ڈرتا کہ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہو رہا ہوں۔ اس کے لیے وہ جھوٹ بھی بولتا ہے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے بھی لوگ اس طرح کے ہوئے، یعنی خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز دین پیش کیا ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔ قرآن اس کی گواہی دے رہا ہے اور بڑی عجیب و حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمین پر سب سے پہلا فتویٰ کفر کا دیا گیا، وہ ایک رسول کو دیا گیا۔ وہ ہیں سیدنا عیسی علیہ السلام۔ اس وقت کے تمام اہل علم نے جو یہودی تھے ان سب نے عیسی علیہ السلام کو کافر قرار دیا۔ وجہ کیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کے خودساختہ دین کی تردید کر رہے تھے تو انھوں نے ان کو کافر قرار دے دیا۔ صحابہ کرام نے اس سے مکمل طور پر پر ہیز کیا۔ کسی صحابی نے کسی کو کافر نہیں کہا۔ حد یہ ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو قرآن کا حصہ نہیں مانتے تھے، اس کے باوجود صحابہ ان کا احترام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ قرآن سیکھیں گے تو عبد اللہ ابن مسعود سے۔ اختلاف کی وجہ سے کسی پر جھوٹی باتیں گڑھنا اور اس پر بہتان لگانا، بے بنیاد

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page