تجدیدی کام
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۳
میں وائسرائے کے سامنے ایک خط پیش کیا گیا جس پر محمد علی کا دستخط تھا۔ یہ خط امیر کابل کے نام تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اپنی فوج لے کر ہندوستان پر حملہ کر دیجیے، ہم اندر سے بغاوت کر دیں گے۔ اس کے بعد انگریزوں کو بھاگنا پڑے گا۔ اور ملک آزاد ہو جائے گا۔ اس خط کے مضمون سے مولانا محمد علی جوہر کی بغاوت ثابت ہوتی تھی۔ اس کو وائسرائے کونسل میں غور کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ کونسل کی اس میٹنگ میں جنرل ڈائر بھی تھا، جو اپنی صفا کی کے لیے مشہور تھا۔ جنرل ڈائر نے اس خط کو پڑھا پھر اس کو پھینک دیا۔ اس نے کہا کہ اس خط کی زبان محمد علی کی زبان نہیں ہوسکتی۔ یہ تو ہمارے کسی جونیئر آفیسر کا لکھا ہوا خط ہے۔ جنرل ڈائر کی اس بات پر وہ خط رد کر دیا گیا۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے مخالفین کے اندر جنرل ڈائر کے بقدر کردار بھی نہیں، ورنہ وہ قذافی کی کتاب کا ترجمہ دیکھ کر اس کو رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو وحید الدین خاں کی زبان ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ واقعہ ہے کہ اس کتاب کی زبان میں اور میری زبان میں بہت فرق ہے۔
کرنل قذافی کی کتاب کا ترجمہ تو بہت دور کی بات ہے مولانا کی کرنل قذافی نے ایک دعوت کی تھی جس میں وہ نہیں گئے تھے وہ بھی مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر شمس الآفاق منسٹری آف ہیلتھ نئی دہلی ملاقات کے لیے آئے۔ وہ الرسالہ سے پوری طرف متفق ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کا فعل مشکوک معلوم ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ خدانخواستہ ہندوؤں کا یا حکمرانوں کا ایجنٹ ہوں جو کچھ کہتا ہوں مفاد کے تحت کہتا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا اور اخبار نو کے ایڈیٹر م افضل صاحب بھی اس میں شریک تھے، ان سے آپ پوچھ لیجیے۔ ہم لوگ طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد اسپیشل جہاز کے ذریعہ طرابلس سے بن غازی لے جائے گئے تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرار ہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے نہیں گیا۔ اپنے اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھود یے۔ یعنی جو لوگ کرنل قذافی سے ملنے کے لیے گئے ان کو 500 ڈالر انعام کے طور پر دیے گئے۔ یہ بات پہلے معلوم تھی لیکن مولانا ملاقات کے لیے نہیں گئے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد باتیں پھیلائی گئیں۔ میں یہ بات
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues