تجدیدی کام
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۵
میں توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی عالم کیا عام مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔ انھوں نے کہا صلح حدیبیہ (سورۃ فتح) کوئی دائمی حکم نہیں تھا۔ میں نے ان کو فون کیا کہ کیا سورہ فتح کا حکم دائمی حکم نہیں ہے، قرآن کی ہر آیت تو قیامت تک کے لیے ہے۔ بہر حال وہ کوئی مثبت جواب نہ دے سکے۔ تو یہ حال ہے کہ لوگ مخالفت میں غیر حقیقی باتوں پر مشتمل کتابیں لکھتے ہیں اور لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ بغیر تحقیق مان لیتے ہیں۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ کوئی بات سنو تو پہلے اس کی تحقیق کرو (الحجرات، 49:6)۔ اس لیے صاحب معاملہ کو کوئی بات کہنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔
میں آخر میں ایک بات کہتا ہوں کہ مولانا نے سورہ صف کی آخری آیت کا ایک جگہ تذکرہ کیا ہے جس پر ایک صاحب الزام یہ لگاتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کہتے ہیں کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں چلے گا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا طریقہ چلے گا۔ اس کی تحقیق میں نے کی تو پتہ چلا کہ یہ تو بالکل بیہودہ بات ہے۔ یہاں پر تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جس طرح سے عیسیٰ کے حواریوں نے ان کی مدد کی تھی اسی طرح تم لوگ مدد کرو۔
مختصراً، لوگ مخالفت میں اس قدر گر جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ایمان والا بھی کہتے ہیں، اور جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ "لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ قرآن (3:61) نے کہا ہے، اور بخاری (حدیث نمبر 34) میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ مومن چوری کر سکتا ہے، مومن زنا کر سکتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5827)، مومن بخیل ہو سکتا ہے، مومن بز دل ہو سکتا ہے، لیکن مومن جھوٹ نہیں بول سکتا (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2832)۔ بعض لوگ مخالفت میں اس حد تک گر گئے کہ اتنے جھوٹے الزامات لگا بیٹھے۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ’’وما علينا الا البلاغ‘‘ مولانا وحید الدین خان کے انتقال سے عالم اسلام ایک عالی دماغ سے محروم ہو گیا۔ وہ ایک شخص نہیں ایک ادارہ تھے ایک مکتب فکر تھے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا تھا اور کیا بھی گیا ہے لیکن ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ (ندیم اقبال، لاہور)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues