تجدیدی کام
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۶
الرسالہ مشن کی تحریروں کا تعارف مولانا سید اقبال عمری، عمر آباد، تمل ناڈو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے جس میدان کا انتخاب کیا تھا اسے ہم اسلام عصری اسلوب میں، عصر جدید میں اسلامی لٹریچر یا عصر حاضر میں اسلام کی تشریح و توضیح کہہ سکتے ہیں۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں عصری اسلوب میں اسلام کا عنوان مولانا کا امتیازی موضوع ہے اور انھوں نے اس موضوع کی وضاحت میں اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ عصری اسلوب میں لٹریچر حقیقت یہ ہے کہ جب ماڈرن ایج (modren age) آیا تو مختلف علماء نے یہ خیال ظاہر کیا کہ دورِ جدید کی نسبت سے اسلام کو کیسے قابل فہم بنایا جائے۔ چنانچہ دیوبند کے ایک بزرگ عالم (مولانا قاری محمد طیب) اکثر کہا کرتے تھے کہ آج کی ضرورت جدید طرز استدلال ہے۔ ان کے الفاظ میں مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں ۔ (ڈائری 1984 ص 318)
اسی طرح اہل ندوہ کی "الی الإسلام من جديد" کی تحریک بھی اسی رائے کا اظہار تھی۔ اس سلسلے میں مولانا علی میاں کی ایک کتاب کا عنوان ہے "ردة ولا ابابکر لھا" (صفحہ 171) یعنی ارتداد جدید کے مقابلے کے لیے کوئی ابو بکر صدیق نہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ میدان کار پوری طرح قربانی چاہتا تھا، ڈیڈیکیشن (dedication) چاہتا تھا، مکمل سنجیدگی اور فراغت چاہتا تھا۔ چنانچہ مولانا کے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔ لہذا انھوں نے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کو تیار کرنے میں اپنی ساری زندگی لگادی؛ دورِ جدید کو متعین کیا، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے گہرائی سے اس کا مطالعہ کیا، دورِ جدید میں پائی جانے والی مثبت اقدار کی وضاحت کی، عصری اسلوب میں مذہبی اپروچ کیا ہونا چاہیے، اس کی وضاحت کی۔ الغرض اسلام کی از سر نو دریافت کی حد تک ایک علمی اور فکری لٹریچر تیار کر کے انسانیت کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ معاملہ تجدد پسندی کا نہیں تھا بلکہ تطبیق نو یا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues