Al-Risala · August 2021 · page 237

اسلام ایک مشن

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۷

انطباق نو (reapplication) کا تھا۔ یعنی قرآن وحدیث کی ابدی تعلیمات کو دور جدید کے اسلوب میں بیان کرنا اور عصر حاضر کی نسبت سے ان کا (relevance) ریلیونس ثابت کرنا۔ اس کو مذہبی اصطلاح میں ہم اجتہاد کہہ سکتے ہیں۔ گویا مولانا نے دور جدید کی نسبت سے بھر پور اجتہاد کیا۔ اس علمی اور فکری عمل کو تین عناوین کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ مبنی بر عقل روحانیت (mind-based spirituality)

1۔ مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)

1۔ مبنی بر امن اقدام (peace-based activism)

مولانا کا مرکزی تصور (central idea) یہ تھا کہ دور جدید حقیقت میں دور اسلام ہے مگر اس دور کو ملحد فلسفیوں نے الحاد کے حق میں خوب استعمال کیا۔ امت مسلمہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس دور کو مکمل طور پر توحید کے حق میں استعمال کرتے۔ مگر امت مسلمہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے مولانا فرمایا کرتے تھے کہ میری سب سے بڑی دریافت اللہ کی دریافت ہے۔ میں نے اس دور کے علمی الحاد کو مکمل طور پر پڑھا ہے اور ہر طریقے سے اس کے استدلالی بنیادوں کو اسلام کی دریافت نو میں (convert) کنورٹ کر دیا ہے۔ حقیقت میں سائنسی علم کو ملحدین نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ میں نے اس علم کو توحید کے اثبات کے لیے ان سے آزاد کرا لیا ہے۔

اسلام ایک مشن

مولانا کی تعبیر کا ایک پہلو یہ ہے کہ مولانا قرآن وحدیث، تاریخ انبیا اور تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کو ایک خدائی مشن کے روپ میں دیکھتے ہیں اور اس کو خدا کے منصوبہ تخلیق کے عنوان کے تحت واضح کرتے ہیں۔ یعنی تخلیق کائنات اور تخلیق حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے تمام واقعات کو زمانی اعتبار سے وہ ایک قابل فہم منصوبہ بندی کے طور پر واضح فرماتے ہیں، اور قرآن و حدیث سے مشن کی ترقی اور تسلسل کے لیے رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ گویا مولانا کے پاس اسلام ایک مشن ہے۔ سائنسی اسلوب مولانا کی تحریریں عصری اسلوب میں ہیں، یعنی سائنٹفک اسلوب میں۔ اس میں ڈیٹا کی بنیاد پر گفتگو ہوتی ہے، بیانیہ انداز نہیں ہوتا۔ اس میں تقدساتی اسلوب یا تمثیلی اسلوب نہیں ہوتا بلکہ تجزیاتی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page