Al-Risala · August 2021 · page 238

تحریر کے متعلق اصولی موقف

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۸

اور تحقیقی اسلوب ہوتا ہے؛ قدیم روایتی اسلوب میں نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے یہ جدید ذہن کے لیے قابل فہم ہوتا ہے، مگر جن کا مطالعہ روایتی ہوتا ہے ان کی اپنی ذہنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ابتداء ان کے لیے ان باتوں کو قبول کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ ان کا معاملہ حالفنی الشباب خالفنى الشیوخ» کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یعنی جدید سوچ رکھنے والوں نے ساتھ دیا اور قدیم سوچ رکھنے والوں نے اختلاف کیا۔ مولانا اپنی غیر مطبوعہ ڈائری میں ایک جگہ لکھتے ہیں: میں نے علما پر جو تنقید کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علما نے کوئی مفید کام انجام نہیں دیا ہے۔ میری تنقید صرف اس بات پر ہے کہ موجودہ زمانے کے علما دورِ جدید کی نسبت سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔ نہ ہی انہوں نے دورِ جدید کو سمجھا اور نہ ہی دورِ جدید کی نسبت سے امت کی رہنمائی کی (ڈائری 2011)۔ اس موضوع سے متعلق کتاب ’’علما اور دورِ جدید‘‘ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ مولانا کی تحریروں میں بار بار مختلف انداز سے جن باتوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ ہیں:

(Realization of God) معرفت رب (Realization of Life) معرفت حیات (Realization of Paradise) معرفت جنت (Realization of Dawah Work) معرفت دعوت تقریباً ساری تحریروں کا محور یہی موضوعات ہیں۔

تحریر کے متعلق اصولی موقف

مولانا نے ہماری ایک تربیتی مجلس میں کہا تھا کہ میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے۔ اسی پر میں بار بار لکھتا ہوں، یعنی معرفت اور دعوت کے موضوع پر اور شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب کرتا ہوں اور بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھتا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں۔ گویا وہ میری ایک علمی توجیہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہوتا ہے۔ مبنی بر دلیل لٹریچر مولانا کی تحریروں میں قرآن وحدیث سے ماخوذ الفاظ کی جو تشریحات ہیں اگر ان کو مولانا کے علمی استدلال اور فکری نقطہ نظر کے مطابق سمجھ لیا جائے تو الرسالہ مشن کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page