عقیدت مندانہ اسلوب نہیں، حقیقت پسندانہ اسلوب
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳۹
مولانا نے دعوت و معرفت کے موضوعات کو عصری اسلوب میں سمجھانے کے لیے صفحات کے صفحات لکھے ہیں۔ بظاہر کہیں کوئی بات قابل اعتراض لگ رہی ہو تو دوسرے مضامین میں یا دوسرے پیراگراف میں ہی اس کا جواب موجود ہوتا ہے۔ قاری اگر مولانا کی تحریروں سے وابستہ رہے تو باتوں کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتا ہے۔
مولانا کے خلاف لکھی گئی کتابوں سے الرسالہ مشن کی تحریروں کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا تھا کہ میری تحریر یا تقریر میں جس بات کی وضاحت ہوتی ہے میں اسی کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کا فضل ہے کہ آج تک ہماری نظر سے کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جس میں مولانا کی تحریروں پر علمی رد کیا گیا ہو۔
عقیدت مندانہ اسلوب نہیں، حقیقت پسندانہ اسلوب
مولانا نے اپنی تحریروں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کو مخاطب کیا اور عقیدت مندی کے اسلوب کے بجائے حقیقت پسندی کا اسلوب اختیار کیا۔ قاری کو مولانا کی تحریروں کا مطالعہ کرتے وقت اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
عصر حاضر کے چیلنجز
توحید اور اس کے پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری ہر زمانے میں مطلوب ہے اور اللہ تعالی ہر زمانے میں ایسے افراد کو اٹھائے گا جو وقت کے انحراف کا اور باطل افکار کا دلیل و برہان کی زبان میں مقابلہ کرتے رہیں گے ۔ چاہے وہ اہل دین کا غلو ہو یا ملحدین کے مغالطے ہوں۔ ہر قسم کے فکری مسائل کو ایڈریس کرتے رہیں گے۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں اس ذمہ داری کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ آپ نے کہا: يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلْفٍ عُدُولُهُ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ، وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ (شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر 3884)۔ یعنی، اس علم کو ہر دور کے قابل اعتماد لوگ آگے لے کر جائیں گے— یہ لوگ اس علم سے اہل غلو کی تحریفات کی نشاندہی کریں گے ۔ وہ اہل باطل کے جھوٹ اور جاہل لوگوں کی غلط تشریحات کی نفی کریں گے۔
موجودہ دور بہت سے نئے نئے فکری مغالطوں کا دور ہے۔ اس دور میں مختلف نظریات اور ازم پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues