Al-Risala · February 2021 · page 6

قرآنِ عصرِ حاضر میں

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۶

ہر چیز پر قادر ہے۔ قرآن کی اس آیت میں سفر سے مراد نتیجہ سفر ہے، نہ کہ صورتِ سفر۔ جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں ابو منصور الماتریدی نے لکھا ہے: زمین میں چلنے اور دیکھنے کے حکم کا مطلب جسمانی طور پر سفر کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے تخلیقات میں غور کرنا (أمر يارسال الفكر فيها)، مثلاً تخلیق کی ابتدا اور جو کچھ اس میں ہے، اس پر غور کرنا، اور اس کا مطالعہ کرنا (تفسیر الماتریدی، جلد 8، صفحہ 216)۔ مثلاً آپ نے ایک درخت کو دیکھا، اس سے آپ کا مائنڈ ٹریگر ہوا، آپ اس کے آغاز و انجام پر سوچنے لگے۔ آپ نے سوچا کہ زمین پر وسائل (soil) کیسے وجود میں آیا، زمین پر نباتات کی دنیا کیسے آباد ہوئی، انسان کی غذا اور دوسرے اسبابِ حیات کس طرح وجود میں آئے، وغیرہ۔ اس سوچ نے آپ کو نباتات (plant world) کی دنیا میں پہنچادیا۔ پھر نباتات کے عالم کبیر (macro world) سے گزر کر آپ نباتات کے عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گئے۔ نباتات کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک آپ نے ایک پوری دنیا کی سیر کر ڈالی۔ کائنات کے اس فکری سفر کے ذریعے آپ نے بہت سے حقائق دریافت کیے۔ آپ نے بہت سے چھپے، اور کھلے حقائق کو از سرِ نو دریافت کیا، وغیرہ۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کا حوالہ قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں دیا گیا ہے۔ یہی معرفت ہے۔ یعنی ان باتوں کو دریافت کرکے ان کو اپنے ذہن کی غذا بنانا۔ یہی وہ چیز ہے، جس سے مومن کو معرفت کی غذا حاصل ہوتی ہے۔

قرآنِ عصرِ حاضر میں

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں نازل ہوا۔ لیکن قرآن کا خطاب قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں تک وسیع ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی کچھ آیتیں اس میں وہ ہیں جو ساتویں صدی میں پوری طرح قابلِ فہم تھیں، لیکن قرآن کی کچھ آیتیں ایسی ہیں، جو پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں ہیں۔ یعنی یہ آیتیں نزول کے اعتبار سے ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئیں، لیکن خود قرآن میں ایسے اشارات موجود ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ آیتیں صرف مستقبل میں پوری طرح قابلِ فہم ہوں گی۔ یعنی اپنے نزول کے اعتبار سے وہ ساتویں صدی عیسوی کی آیتیں ہیں۔ لیکن اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page