تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴۴
جب پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے قرآن کی حفاظت کا بہتر انتظام ہو گیا تو اقتدار کی طاقت غیر اہم ہوگئی۔ حفاظت قرآن کے اس انتظام کے بعد اشاعت دین کے لیے سارا زمانہ خود ہی تائید میں آگیا ہے۔ آج اسلام کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اقتدار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پر امن منصوبے کی ضرورت ہے۔
قرآن کی اس آیت میں حفاظت قرآن کے اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی، یہ یاد دہانی (قرآن) ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
حفاظتِ قرآن کے خدائی منصوبے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر امت اس بات کو نہ سمجھے تو وہ اقتدار میں غالب آنے والی قوموں کے خلاف منفی نفسیات میں مبتلا ہوگی اور اقتدار کے حصول میں اپنا وقت ضائع کرے گی۔
6۔ اظہار دین بعض آیات کی صحیح توجیہ نہ کرنے کی وجہ سے اقدام میں فرق ہو جاتا ہے۔ انہیں آیات میں سے اظہارِ دین والی آیت ہے۔ اس آیت میں اظہارِ دین کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ دین اسلام کا فکری اظہار ہے۔ اظہار قوم نہیں، بلکہ دین کا اظہار ہے۔ یہ بات اس آیت میں خود موجود ہے۔ آج اسلام کے حق میں وہ سارے علمی دلائل جمع ہو چکے ہیں جو اسلام کے فکری غلبے کے ہم معنی ہیں۔ آج دین کے فکری اظہار کے لیے علمی تیاری کی ضرورت ہے، نہ کہ عالمی اقتدار کے لیے جنگ کی تیاری کی۔ قرآن مجید میں اظہارِ دین اور اتمام نور کے الفاظ اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس دور میں تقریباً دونوں وعدے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (48:28)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے۔ سورہ الصف میں ہے كَمَ اللهِ مُتِمُّ نُورِهِ (61:8)۔ یعنی اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا۔ اظہار دین اور اتمام نور کا واقعہ خدائی مشن کی تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 7۔ انذار عالم : ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں کار نبوت کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے، یعنی انذار عالم کی ذمہ داری۔ اس کو واقعۃ بنانے کے لیے خدا نے دور جدید میں ہر قسم
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues