تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴۵
کی کمیونی کیشن کی سہولیات مہیا کیں، اور عالمی إنذار کا عمل ممکن ہو گیا۔ امت مسلمہ کو عالمی إنذار کی پلاننگ کرنی تھی، نہ کہ عالمی اقتدار کی منصوبہ بندی کی۔
مگر دوسو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ نے خلافت اسلامیہ کی واپسی کے لیے ان تھک کوششیں کی۔ لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا، بلکہ برعکس طور پر نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کو دہشت گردی پر ابھارنے والا مذہب سمجھا جانے لگا۔ ایک طرف عالمی سطح پر اسلام کی امیج بلڈنگ کی ضرورت تھی تو دوسری طرف عالمی تبلیغ و إنذار کی۔ قرآن مجید میں اسی عالمی إنذار کے بارے میں بتایا گیا ہے:
تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:01)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ عالمی إنذار کو واقعہ بنانا اس دور میں ممکن ہو گیا ہے، اگر اس موقع کو بھر پور طور پر استعمال نہ کریں تو خدا کے یہاں پکڑ ہوگی۔
8۔ عصری اسلوب میں اسلام کی تبیین نو: زمانے کی نسبت سے مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا جاتا ہے اس کو لسان قوم میں بات کرنا کہتے ہیں۔ آج ایک داعی کو مدعو کے لحاظ سے اسلوب عصری کو جاننا ضروری ہے۔ عصر حاضر تمثیلی اسلوب کے بجائے سائنٹفک اسلوب میں کلام کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ عصر حاضر کا اسلوب ریزن بیسڈ اسلوب اور تحقیق بیسڈ اسلوب ہے۔ چنانچہ اسلامی لٹریچر کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش الرسالہ مشن کے ذریعے ہوئی ہے۔ عصری اسلوب کے تقاضوں کی رعایت الرسالہ لٹریچر میں پائی جاتی ہے۔ اسلوب عصر میں کلام ہی اس لٹریچر کی خصوصیت ہے، اللہ تعالیٰ صاحب مشن کو جزائے خیر عطا کرے کہ انھوں نے اس مقصد کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ کر امت مسلمہ کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ فرض عین کے درجے میں اس لٹریچر کو استعمال کریں اور دعوت دین کا فریضہ انجام دیں۔ کیونکہ دعوت ایک سنگین ذمہ داری ہے۔ اور اسلوب عصر اس کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:04)۔ یعنی اور ہم نے جو رسول بھی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues