تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴۸
ایمان اس بات کو سمجھ جائیں تو امن کی طرف دنیا اپنے قدم مزید آگے بڑھائے گی۔ بس اس کی ایک ہی شرط ہے کہ اہل اسلام اپنے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت پر پرامن جدوجہد کریں، نہ کہ کوئی پرتشدد اقدام۔ جدید دور ، دور امن ہے۔ مگر یہ پوٹینشل حالت میں موجود ہے، اور اس کو ایکچول بنانے کی ذمہ داری اہل اسلام کی ہے۔
12۔ معرفتِ اعظم: تخلیقات میں غوروفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک اعلیٰ فریم ورک اور ایک بہترین انفراسٹرکچر (infrastructure) درکار تھا، وہ آج میسر ہو گیا ہے ۔ چنانچہ خالق کی معرفت کو تخلیق کی معرفت سے جاننے کا اتنا بڑا موقع اہل ایمان کو اس سائنسی دور میں ملا ہے، جو اس سے پہلے اتنے اعلیٰ پیمانے پر حاصل نہ تھا۔ اس کے ذریعے وہ اثبات ایمان بھی کر سکتے ہیں اور اپنے لیے از دیاد ایمان کا سامان بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
اسپِرٹ آف انکوائری یعنی تلاش و جستجو کے نتیجے میں جو کائناتی نشانیاں ڈسکور ہوئی ہیں، وہ عین اسلام کے حق میں ہے۔ لہٰذا یہ دور اعلیٰ معرفت کا دور ہے ، اگر ہم مادی مسائل میں الجھنے کے بجائے معرفت کو اپنا مقصود بنائیں تو معرفتِ اعظم کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ معرفتِ اعظم کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ کائنات کی نشانیوں کے ذریعے دلائل اعظم کا پانا ہی معرفتِ اعظم کا پانا ہے۔ اس دنیا میں دلائلِ اعظم ہی سے حقیقتِ اعلیٰ کا ادراک ممکن ہے۔ کیونکہ احادیث میں اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ کی ذات پر نہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے :
تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللهِ ، وَلا تَفَكَّرُوا فِي اللهِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6319) - یعنی اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کرو، اللہ کی ذات میں نہیں۔ ابن عباس کی ایک روایت میں ہے : تَفَكَّرُوا فِي كُلِّ شَيْءٍ ، وَلا تَفَكَّرُوا فِي اللهِ (العظمة لابي الشيخ الاصبهانی، حدیث نمبر (2) - یعنی ہر چیز میں تفکر کرو، اور اللہ کی ذات میں تفکر نہ کرو۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے : فَإِنَّكُمْ لَا تَقْدُرُونَ قَدْرَهُ (العظمة لابی الشيخ الاصبهانی، حدیث نمبر (5) - یعنی تم اس کی قدرت نہیں رکھتے ہو۔
ان احادیث میں” آلاء اللہ“ اور ”کل شئی‘‘ میں غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں غور کرو، اس سے تم کو خالق کی معرفت حاصل ہوگی۔ یہ عملاً اس دور میں اعلیٰ پیمانے پر قابلِ تطبیق ہو چکا ہے ۔ خوردبین، اور دوربین کی ایجاد کے بعد ، تخلیق کا تفصیلی علم حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس فرق
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues