قرآنِ عصرِ حاضر میں
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۷
معنویت کے اعتبار سے وہ بعد کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں، اپنی تفسیر کے اعتبار سے وہ مستقبل میں پوری طرح قابل فہم ہوں گی۔ ان میں سے چند آیات یہ ہیں:
(1) سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔
(3) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ. وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (35:27-28)۔ یعنی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ (4) فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ (10:92)۔ یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔
ایک مثال
قرآن کے ان حوالوں کی اہمیت اس وقت مجھے زیادہ اہمیت کے ساتھ سمجھ میں آئی، جب میں نے مندرجہ ذیل کتاب پڑھی:
The Bible, the Qur'an and Science: The Holy Scriptures Examined in the Light of Modern Knowledge, by Maurice Bucaille, Robert Laffont, 1982, pp. 269
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues