تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵۰
مثبت فکر خدا کے تعلق سے مثبت رہنا سکھاتی ہے ورنہ انسان خداہی سے منفی اور بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث میں مومن کو دعا کے الفاظ یہ بتائے گئے ہیں : وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 771)۔ یعنی تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور برائی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بندہ خدا سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے تعلق سے مثبت ذہن کے ساتھ رہے گا۔
علما کے مطابق، خدا کے تعلق سے یہ سوچ تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے مثبت ذہن پر قائم رہنا گویا عقیدے کا مسئلہ ہے۔ مثبت فکر کو اپنانا گویا خیر کا سر چشمہ حاصل کرنا ہے۔ 15۔ تزکیہ : کائنات کی ہر چیز انسان کو یہ سبق دینا چاہتی ہے کہ اپنے اندر ذہنی ارتقا پیدا کرو ( آل عمران، 193-3:190)۔ خدا کی کائنات میں نیکٹر (nector) کی طرح تزکیہ کے بے شمار آئٹم چھپے ہوئے ہیں۔ اگر انسان اس کی آواز پر کان لگائے تو اپنے ایمان میں اضافہ بھی ممکن ہے اور اخلاق میں درستگی بھی۔ قرآن اگر کتاب مسطور ہے تو کائنات کتاب مشہود ہے۔ لہذا تزکیہ کا تعلق اوراد و وظائف سے نہیں ہے بلکہ شعوری دریافتوں سے ہے، جن اوراد ووظائف کو ہم پڑھتے ہیں وہ بھی انبیائے کرام کے شعوری الفاظ ہیں، نہ کہ ہماری طرح محض تکرار لسانی یا رٹے ہوئے الفاظ۔ تزکیہ نام ہے ربانی دسترخوان سے رزق معرفت حاصل کرنے کا۔ تزکیہ نام ہے شعوری سطح پر تعمیر شخصیت کا۔ مزکی کی انسان ہی کے لیے جنت ہے، نہ کہ کسی کے حلقہ ارادت میں شامل ہو جانے سے جنت ملے گی۔ تزکیہ ایک شعوری عمل ہے، اپنے آپ کو بے خودی اور مدہوشی کے عالم میں لے جانے کا نام تزکیہ نہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات سے تزکیہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے : وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى (20:76) یعنی یہ (جنت) بدلہ ہے اس شخص کا جو پاکیزگی اختیار کرے۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (87:14) یعنی کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو ڈیولپ کرے اور شعوری تزکیہ کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے ۔ شعوری تزکیہ ہی ارتقاء ذہنی کا ذریعہ ہے۔ یہی تزکیہ عبرت پذیری سکھاتا ہے، اسی سے انسان درس وعبرت والی زندگی گزار سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues