تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵۲
هَذَا الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ ان دونوں احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس دین کی تائید ہر قسم کے افراد سے کرے گا، خواہ وہ سیکولر ہوں، یا غیر دیندار۔ اس قسم کی کئی احادیث ہیں جو غیر اقوام کے تائیدی رول کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر ہم اس دور کو ڈسکور کریں تو ہر ترقی ہمیں اپنی تائید نظر آئے گی اور ہر شخص دین اسلام کا مؤید نظر آئے گا چاہے وہ مغربی ہو یا مشرقی۔
18۔ اہل مغرب کا رول: اہل مغرب اسلام کے لیے مؤیدین کا گروہ ہیں، نہ کہ مخالفین کا گروہ۔ خدا نے ان کو اپنے دین کی خاطر سائنسی ترقی دی ہے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ ان کی ایجادات اور ان کی کوششوں کا دل سے اعتراف کریں۔ ان سے شکایت کو اپنے اوپر حرام سمجھیں۔ انہوں نے جو تہذیب دی ہے اس کو سمجھیں۔ اگر ان میں کلچر کی برائیاں ہیں تو اس کو دعوت کا موضوع سمجھیں، نہ کہ دشمنی اور نفرت کا۔ کیوں کہ اس کا تعلق انسانی آزادی کے غلط استعمال سے ہے، نہ کہ اہل مغرب کی سائنسی ترقی سے۔
آج اہل مغرب میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو اپنے اندر اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں اور جنہوں نے انسان کو جدید سہولیات سے نوازا ہے۔ ہمیں ان تمام چیزوں کا اعتراف کرنا ہے اور اسلام کے حق میں انھیں استعمال کرنا ہے۔ ان چیزوں کے استعمال کی قیمت کھلے اعتراف ہی سے ادا کی جا سکتی ہے۔ آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ویسٹو فوبیا میں مبتلا ہونے کے بجائے ان کی خدمات کا اعتراف کریں، اور ان کی ایجاد کردہ چیزوں کو دعوتی میدان میں استعمال کریں۔
آج مسلم برانڈ کے نام سے کوئی مادی چیز کو ایجاد کرکے اپنا الگ جزیرہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ ویسٹ کی ایجادات کو استعمال کریں، اور اپنے پاس موجود سب سے بڑی چیز قرآن کو ان لوگوں کے سامنے بطور دعوت پیش کریں۔ کیوں کہ اللہ قیامت کے دن پہلے مادی ایجادات کے بارے میں نہیں پوچھے گا، لیکن دعوتی کوتاہی کے بارے میں وہ ضرور پوچھے گا۔ ایک حدیث میں اہل مغرب کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ قیامت کے قریب ان کا غلبہ رہے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ (صحیح مسلم،
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues