Al-Risala · August 2021 · page 253

تلخیص ، نہ کہ تشریح

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵۳

حدیث نمبر 2898)۔ یعنی، قیامت قریب اہلِ روم سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ اس غلبہ والی بات کو جب قرآن میں بیان کردہ ایک خبر سے ملا کر سمجھا جائے تو یہ ایک مثبت بات بن جاتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے نصاریٰ اپنے دل میں سب سے زیادہ نرم گوشہ رکھتے ہیں : أَقْرَبُهُمْ مَوَدَّةً (5:82) ۔ یعنی، ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، یہاں اہلِ مغرب سے بے نتیجہ مقابلے سے روکا گیا ہے۔ اس لیے اب ان کے تائیدی رول کو جاننے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے دشمنانہ طریقہ اختیار کرنے کی۔ قرآن دشمنی میں اضافے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ حسن سلوک کے ذریعے دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی تلقین کرتا ہے (فصلت، 41:34)۔

19۔ تخلیق کے ادوار: تخلیق کے چھ ادوار ہیں جس میں انسان کی تخلیق سب سے آخر میں ہے۔ انسان کو خدا نے اپنی معرفت کے قولی اظہار کے لیے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ انسان کو اس دنیا میں خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہونا ہے اور اقوام عالم کے درمیان اس کا اظہار کرنا ہے۔ ساری تخلیق کا مقصد خدا کی معرفت ہے۔ اور انسان ایک استثنائی مخلوق ہے جو آزادی کا اختیار رکھتے ہوئے سیلف ڈسکوری پر خدا کو دریافت کرنے اور سیلف ڈسپلن پر رہنے کی ذمہ داری لیے ہوئے ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (33:72)۔ یعنی اور انسان نے اس (امانت) کو اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔

مولانا کے مطابق، امانت سے مراد اختیار و آزادی سے کام کرنا ہے۔ انسان نے کائنات کے آغاز میں اپنے لیے امانت، یعنی آزادانہ اختیار کا چوائس لیا۔ قرآن کی مختلف آیتوں میں تخلیقی ادوار کا ذکر ہے۔ یہ انسان کی معرفت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے، نہ کہ صرف خبر دینے کے لیے۔ مولانا کی تحریروں کو اگر ترتیب سے جمع کیا جائے تو کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کا ایک نقشہ تیار ہوسکتا ہے۔ سیکولر لوگوں نے اگر دنیا کے مادی نقشے کی ترتیب کی کوشش کی ہے تو مولانا نے معنوی نقشہ تیار کیا ہے۔

20۔ تاریخ کی تعبیر: تاریخ کی تعبیر جنھوں نے بھی کی ہے وہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے واقف

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page