تلخیص ، نہ کہ تشریح
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵۵
نہیں ہے بلکہ مطلوب عمل کے طور پر ہے جس عمل کو ایک مومن بندہ ابد الآباد تک انجام دیتا رہے گا۔ گویا دنیا اور آخرت میں حمد رب میں جینا ہی اصل جینا ہے۔
22۔ حدیبیہ منہاج: مولانا نے الرسالہ میں صلح حدیبیہ کے واقعے کو بہت اہمیت دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کو قرآن میں فتح مبین (الفتح، 1: کہا گیا ہے۔
صلح حدیبیہ سے یہ پتہ چلا کہ جان کی قربانی کے مقابلے میں وقار کی قربانی زیادہ بڑی چیز ہے۔ یہی وہ قربانی تھی جس نے رسول اللہ کے مشن کو فتح مبین تک پہنچایا۔ انسان کے دلوں کو جیتنے کا یہ حکیمانہ طریقہ سب سے پہلے رسول اللہ نے دنیا والوں کو انٹروڈیوس کیا، یعنی یک طرفہ طور پر فریق مقابل کی ہر شرط کو مان لینا۔ تاکہ امن کا ماحول بنے، آج اسی امن کے حصول کے لیے مسلمانوں کو ماضی کی عظمت باہر آنا ہوگا۔ حدیبیہ منہاج اجتماعی کامیابی کے لیے شاہ کلید ہے۔ یہ مادی شکست میں معنوی فتح کی کامیابی کا راز ہے، اور مادی فتح سے زیادہ معنوی فتح اسلام کا اصل مطلوب ہے۔ اس لیے قرآن میں اس کو فتح مبین کہا گیا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (48:01)۔ یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔
دعوتی مشن کا سفر ہمیشہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ کی حد تک جاتا ہے۔ جس نے اس راز کو جان لیا وہی فاتح ہے اور جس نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا، وہ شکست کھا گیا۔ آج عالمی طور پر اقوام متحدہ میں ایک ناجنگ معاہدہ طے پایا ہے۔ گویا دنیا اصولی طور پر اس کی پابند ہو گئی ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک پر جارحانہ کارروائی نہیں کرے گا۔ اس موجودہ صورت حال کو صلح حدیبیہ کی توسیعی سنت سمجھنا چاہیے، اور اس سے عالمی فائدے حاصل کرنا چاہیے۔
23۔ اقامت دین: اقامت کے موضوع پر مولانا نے بہت لکھا ہے۔ اس کو ردعمل کہنا بہت بڑی نادانی ہے۔ اس کو عمل کا صحیح رخ متعین کرنے کی کوشش سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ اقامت دین کو نفاذِ دین یا کامل دین کا نفاذ سمجھ کر امت کو تکلیف مالا یطاق میں ڈال دیا گیا ہے۔ جس کا انجام یہ ہوا ہے کہ امت مایوسی کا شکار ہوئی، اور اس مفروضہ مقصد کے حصول کے لیے خودکش بمباری جیسے قبیح فعل تک کو اپنے لیے جائز کر لیا۔ دین ہر ایک سے مکمل قبولیت کا تقاضا کرتا ہے، مکمل نفاذ کا نہیں۔ جو لوگ اقامتِ دین کو تنفیذ شریعت کے معنی میں لیتے ہیں، وہ دین کی ایسی تعبیر کرتے ہیں جس میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues