Al-Risala · August 2021 · page 257

تلخیص ، نہ کہ تشریح

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵۷

جس میں وقت کے مصلحین امت کا بھی امتحان ہے، اور متبعین شریعت کا بھی۔ قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (42:30) ۔ یعنی، اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔

اس آیت کے مطابق، مصیبت کا پہلا ذمہ دار خود مبتلا انسان ہے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔ مولانا اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : موجودہ دنیا کو اسباب کے قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔ یہاں آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ واضح طور پر اس کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دنیا کے یہ واقعات اس لیے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔

اپنی پیدا کردہ مصیبتوں کو جاننا بہت ہی مشکل کام ہے دوسروں کو دوشی ٹھہرانا بہت آسان ہے ۔ "اپنی ذات کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا، یہی قرآنی روش ہے ۔ دوسروں کی سازش کا انکشاف کرتے رہنا غیر قرآنی روش ہے۔ اگر احتساب خویش کے لیے امت تیار ہو جائے تو غیر معمولی تبدیلی واقع ہوگی (الرعد، 13:11)۔ مولانا کے الفاظ میں، اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کم زوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

25۔ خشیت انسانی، خشیت ربانی: یہ دور خشیت انسانی سے نکل کر خشیت ربانی میں داخل ہو گیا ہے۔ آج اسلام اور مسلمان دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ارکان اسلام کا تقریباً ہر جگہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ اللہ کی عبادت کے لیے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ اگر کسی جگہ مسلمانوں کو کوئی رکاوٹ ہے تو وہ "آبیل مجھے مار" کے اصول کے تحت ہے۔ قرآن وحدیث کی تعلیم کے لیے، مدارس اور مکاتب کا ایک مضبوط سلسلہ ہر جگہ قائم ہے۔ مسلمان کسی بھی معاشرے کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ لہٰذا وہ ماضی کے خوف اور خدشات میں جینا چھوڑ دیں، وہ خوف خدا میں جینے والے بنیں۔ قرآن میں حکم کے انداز میں بطور پیشین گوئی ارشاد ہوا ہے: فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3) ۔ یعنی تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔

دوسرے الفاظ میں، اب جو دور آنے والا ہے، اس میں انسانوں سے ڈرنے کا ماحول نہیں ہوگا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page