Al-Risala · August 2021 · page 263

تلخیص ، نہ کہ تشریح

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۳

مغالطوں کا جائزہ پروفیسر ابواريب، کرناٹک انسان کی اصلاح کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے کیوں کہ خدا نے انسان کو با اختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا فرمایا ہے۔ اس بنا پر آدمی سرکشی اور اطاعت دونوں قسم کے رویوں کا اظہار کرتا ہے، اپنی شخصیت کو آخری حد تک چھپانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر سچائی کے مقابلے میں ہر قسم کی غلط روش اختیار کرتا ہے۔ یہ سلسلہ نبیوں کے زمانے سے آج تک کے مصلحین کے ساتھ بھی جاری ہے، استہزاء، عیب نکالنا، الزام تراشی کرنا، شوشہ نکالنا وغیرہ۔ صاحب الرسالہ بھی وقت کے ایک مصلح انسان تھے ان کے معاصرین نے بھی وہ تمام حربے مولانا کے خلاف استعمال کیے جو ماضی کی تاریخ میں مصلحین کے ساتھ کیے گئے تھے۔ میں نے اس قسم کے بعض الزامات اور مغالطوں کا جائزہ لے کر ان کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ قارئین کو کوئی بات دعوت الی اللہ سے نہ پھیر سکے: 1۔ بَرْنَامِجُنَا اِعْدَادُ الْمُبْرَمِجِين: تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک خارج رخی تحریک اور دوسرے داخل رخی تحریک۔ اول الذکر تحریک کا نشانہ کسی خارجی ڈھانچے کو بدلنا ہوتا ہے۔ جیسے معاشرتی، معاشی یا سیاسی نظام کو بدل کر اس کی جگہ دوسرا نظام قائم کرنا، ثانی الذکر تحریک کا مقصد کسی خارجی ڈھانچے کی شکست و ریخت نہیں ہوتا، بلکہ ایسی تحریک انسان کو اس کے داخل سے مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتی ہے جس کے سہارے تمام خارجی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ اسی لیے ایسی تحریک فرد کو خارجی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے اس کے باطن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے، تا کہ اس سے زیادہ دور رس اور گہری نوعیت کی تبدیلی لائی جا سکے۔

الرسالہ تحریک بھی انسان کی داخلی شخصیت میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے اٹھی تھی۔ ظاہر ہے ایسی تحریک کو جو ایک زوال یافتہ قوم کے انسانی جمود کو توڑنے کے لیے اٹھی ہو، اسے انتہائی صبر کے ساتھ ایک طویل مدت تک تزکیہ و تربیت کے ذریعہ افراد سازی میں لگے رہنا ضروری تھا۔ اسی لیے الرسالہ کے اجراء سے لے کر قیام سی پی ایس انٹرنیشنل تک یعنی 1976ء سے 2001ء تک کا زمانہ، افکار

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page