برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۴
الرسالة کا گویا دور تیاری (preparatory period) تھا۔ اس زمانے میں مولانا کے کام کا طریقہ یہ رہا کہ الرسالة اور دیگر شائع شدہ کتب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلایا جائے تا کہ اس ذہن سازی کے ذریعہ مطلوبہ افراد کار کی ایک ایسی ٹیم وجود میں آجائے جو اپنی ذات میں پروگرام ساز ہوں۔ اسی لیے مولانا نے ایک عرصہ تک، نہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ بنایا، اور نہ ہی کوئی خارجی پروگرام دیا۔ اس روایتی طریقہ کو ترک کرنے کی اور بھی کئی اہم وجوہات تھیں۔ چونکہ یہی چیز آگے چل کر بہت جلد ایک نئی جماعت اور ایک نئے فرقے کے وجود میں آنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور پھر ایک زوال یافتہ قوم سے کسی تعمیری کام کی توقع نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اس کی اچھی طرح تربیت نہ کی جائے ۔ ورنہ ایسے افراد کسی تنظیم کی تنزّل و بربادی میں اضافے کا سبب تو ضرور بن سکتے ہیں، نہ کہ اس کی تعمیر و ترقی میں اضافے کا ذریعہ۔
مولانا کا یہ انداز روایتی ذہن اور سطحی سوچ رکھنے والوں کی سمجھ میں نہ آسکا۔ چنانچہ اس بات کو عوام و خواص میں اس طرح مشہور کیا گیا کہ، مولانا کے پاس الرسالہ اور لٹریچر کے سوا کوئی عملی پروگرام نہیں ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک غیر تربیت یافتہ افراد کو لے کر عملی پروگرام کے نام پر خارجی ہنگامہ کھڑا کرنا گویا کام تھا، اور لٹریچر کے ذریعہ خاموشی سے تزکیہ و تربیت اور تعمیر و اصلاحِ فرد میں ایک وقت تک لگے رہنا کوئی کام ہی نہیں تھا۔
اس بات کو ہر طرف پھیلا دیا گیا۔ چنانچہ ہندوستان سے لے کر عرب ممالک تک ہر جگہ مولانا سے ایک سوال ضرور کیا گیا ۔ وہ یہ کہ، آپ کا پروگرام کیا ہے۔ اس کے جواب میں مولانا نے وہ جملہ کہا جو بہت مشہور ہوا:
برنامجنا اعداد المبرمجین
یعنی ہمارا پروگرام ہے پروگرام ساز افراد کو تیار کرنا۔ وقت کے روایتی ڈھانچے میں کھڑے ہو کر دیکھنے والوں کو یہ جواب سمجھ میں نہیں آسکتا تھا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاہم اس سے قطع نظر جو اعتراض کیا گیا اس جملے پر ایک اور رخ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس جملے کو دوبارہ دیکھیے: ”مولانا کے پاس صرف الرسالہ اور لٹریچر ہے کوئی عملی پروگرام نہیں ہے۔ “ اس جملے میں بہت بڑا بالواسطہ اعتراف موجود ہے، گو یا وہ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ فکر الرسالہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues