Al-Risala · August 2021 · page 265

برنامجنا اعداد المبرمجین

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۵

تو کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو قابل گرفت ہو، یا جس کو عقلی یا نقلی دلائل سے غلط ثابت کیا جا سکے۔ قابل اعتراض بات بس یہ ہے کوئی عملی پروگرام مولانا کے پاس ہمیں نظر نہیں آتا۔ یہ جملہ کہہ کر گویا وہ الرسالہ کی صحتِ فکر کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ جملہ اعتراف ہے، نہ کہ جملہ اعتراض۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ نادان لوگوں نے اس کو اعتراض سمجھ کر پھیلایا۔

2۔ القرآن مشن: دوسرا مغالطہ بعض احباب کو اس وقت پیشین آیا جب القرآن مشن کا آغاز ہوا، قرآن کے انگریزی ترجمہ کی اشاعت کے فوری بعد۔ 2010ء میں القرآن مشن کی شروعات ہوئی۔ اس کا خاص مقصد حدیث رسول میں کی گئی اد خال کلمہ کی پیش گوئی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ چنانچہ مولانا نے اپنی ساری توانائی اور توجہ کے ساتھ پوری CPS ٹیم کو اس کام پر لگایا۔ اس کے لیے ہندستان کے مختلف شہروں میں کئی دعوہ میٹ منعقد ہوئے، جیسے دہلی، حیدرآباد، بنگلور اور ممبئی وغیرہ۔ ان دعوہ میٹس کا خاص مقصد دعوت الی اللہ کی اہمیت اور ٹیم اسپرٹ کو سی پی ایس ممبران میں پیدا کرنا تھا تا کہ قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے سب متحرک ہو جائیں۔

اس پر کچھ لوگوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مولانا نے اسلامی مرکز کے تاسیسی مقصد، یعنی علمی وتحقیقی کام سے، ہٹا کر ساری ٹیم کو بس قرآن کی تقسیم (Quran distribution) پر لگا دیا۔ جن افراد کو یہ اشکال پیش آیا انھوں نے میرے سامنے جب ذکر کیا تو ذہن کے حافظے میں یہ بات رہ گئی اور ذہن مسلسل اس پر سوچنے لگا۔ علمی و تحقیقی کام پر مولانا نے کہاں لکھا ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے یاد آیا کہ مولانا نے اپنی کتاب تجدید دین کے باب ”علوم اسلامی کی تدوین“ کے تحت اس سلسلے میں کچھ لکھا ہے۔ فوراً تجدید دین کا متعلقہ باب دوبارہ پڑھا اور جب فہرست تدوین علوم اسلامی کو بغور دیکھا تو حیرت واطمئنان کی کیفیات سے دوچار ہوا۔ اطمینان اس بات کا کہ مجھے اس اشکال کا جواب مل چکا تھا، اور حیرت کی پہلی وجہ تھی کہ بار ہا اس فہرست کو میں نے دیکھا ہے، مگر پہلا نکتہ ہی یاد نہ تھا۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ سنہ 1983ء میں پہلی بار تجدید دین شائع ہوئی تھی، جب کہ CPS اور القرآن مشن کا کوئی وجود بھی نہ تھا۔ گویا اس وقت مولانا نے جس علمی وعملی کام کا نقشہ بنایا تھا۔ ٹھیک اسی پروگرام کے تحت مولانا کام کر رہے تھے۔ اس فہرست کے مطابق سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ درج ذیل ہے:

غیر عربی دانوں کے لیے قرآن پاک کے تراجم (بغیر تفسیر) شائع کرنا، مختلف زبانوں میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page