برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۷
”ایک اعتبار سے، ظاہر ہونے والا شخص، امت محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجل مؤمن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے وہ گم راہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا، اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا شخص۔ ایک اور اعتبار سے وہ شخص امت محمدی کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا، جو امت یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین مختلف شخصیتوں کو“ (قیامت کا الارم صفحہ، 45)
دوسری تاویل وہ ہے جو مضمون ”مسیحی ماڈل کی آمد ثانی“ میں لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں کا زمانہ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا نا قابل فہم بات ہے۔ اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمد ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابل انطباق (applicable) بن جائے گا۔ حیدر آباد دعوہ میٹ میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک نشست میں مولانا نے فرمایا کہ دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح پیغمبر امن ہیں جس طرح پیغمبر مسیح کو سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے یہاں بھی پرامن ماڈل پوری طرح موجود ہے، مگر بعد کے ادوار میں امت محمدی جہادی ماڈل (معنی قتال) سے اس قدر کنڈیشنڈ ہو جائے گی کہ وہ آپ کے پرامن ماڈل کو دریافت کرنے سے عمومی طور پر قاصر رہے گی، غالباً اس دور میں جو چیز واقع ہوگی وہ یہ کہ پرامن طریقہ کار ہی قابل عمل ہوگا، اسی بات کو حدیث میں تمثیل کی زبان میں مسیح کی آمد ثانی کہا گیا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ مسیح کی آمدثانی کا عقیدہ، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اخبار آحاد اور اسلامی لٹریچر میں پہلے سے موجود ہے۔ اور اس مسئلہ کی مولانا نے جو قابل فہم تاویل پیش کی ہے، اس تاویل کو ماننا لازمی نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں آپ کے اور ہمارے لیے اب جو انتخاب ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح کا آسمان سے جسمانی نزول مانیں، یا ان اخبار آحاد کا انکار کریں۔ تیسرے یہ کہ مولانا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues