برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۸
کی پیش کردہ قابل فہم تاویل کو مانیں ۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس معاملے میں اپنے آپ کو کس گروہ کے ساتھ بریکٹ کرنا پسند کرتے ہیں ۔
4۔ آریس ایس، بی جے پی اور مولانا: چوتھا مغالطہ یہ ہوا کہ مولانا بی جے پی اور آریس لیس سے ملے ہوئے ہیں ۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو محض ان کے غیر داعیانہ مزاج کی وجہ سے ہوئی ۔ اگر مسلمانوں میں داعیانہ مزاج ہوتا تو ان کے اندر انسانوں سے خیر خواہی کا مزاج ہوتا ، وہ مدعو سے ملاقات کو غنیمت سمجھتے ، مدعو کی تالیف قلب کرتے ہوئے دین کا پیغام ان تک پہنچانے کے مواقع تلاش کرتے ۔ مولانا کے اندر خالص داعیانہ مزاج تھا ، جہاں بھی مدعو کے سامنے اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملتا وہاں پہنچ جاتے تھے ۔ جیسا کہ مولانا نے وضاحت کی ہے۔
ہندوستان میں غیر مسلم دو طرح کے ہیں۔ ایک ، نو پرابلم ( سیکولر ) طبقہ اور دوسرا ، پرابلم طبقہ۔ مسلمان یہ کرتے ہیں کہ نو پرابلم طبقے کے لوگوں سے مل کر جلسے اور پروگرام کرتے ہیں تا کہ ان کی تائید حاصل کر سکیں ، اس سے ہمارا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے ۔ مولانا نے انتہائی حکمت سے پرابلم گروہ میں کام کیا اور ان کے ذہن سے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔ (ملاحظہ ہو اوراق حیات ، صفحه 825-824)
اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ محمد علی جناح کی قیادت میں تقسیم کی تحریک چلا کر مسلمانان ہند نے ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز کھودیا ہوتا ، اگر دو مسلم رہنما موجود نہ ہوئے ۔ ایک، مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے ، مولانا حسین احمد مدنی (بشمول جمعية العلماء ہند ) ۔ دونوں کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے ہمیں سر اٹھا کر ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز فراہم کیا۔ دونوں نے مذہبی بنیاد پر تقسیم ہند اور دو قومی نظریہ کی پرزور مخالفت کی، قومی یکجہتی اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھر پور اپنا حصہ ادا کیا، مگر بد قسمتی سے آزادی کے بعد جتنے بھی مسلمانوں کے لیڈرور رہنما پیدا ہوئے ، سید شہاب الدین سے لے کر موجودہ رہنماؤں تک ، سب مسٹر جناح کا تسلسل ثابت ہوتے ہیں، سوائے دو کے ۔ ایک ، مولانا وحید الدین خاں اور دوسرے، سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام۔ جدید ہندوستان میں ملک اور قوم وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی خدمات و تعاون (credibility and contribution) کسی بھی درجہ میں مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی خدمات سے کم نہیں ہیں۔ دونوں نے برادران وطن کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues