برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶۹
نظروں میں مسلمانوں ان ہند کے وقار کو بلند اور وفاداری کو غیر مشکوک بنایا۔ 5۔ کشمیر و فلسطین اور مولانا کا موقف: کشمیر کا مسئلہ بھی غیر داعیانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ مولانا اس مسئلے کو ایک داعی کی طرح دیکھتے تھے۔ مولانا جس کشمیر کا تصور کرتے تھے اس کا خاکہ کچھ اس طرح کا تھا:
"کشمیر کو خدا نے بے پناہ سیاحتی کشش رکھنے والا خوبصورت قدرتی مناظر کا مرکز اور مخصوص پلاننگ کے تحت ایک مسلم اکثریتی علاقہ بنایا تا کہ دنیا بھر سے سیاح وہاں آئیں اور کشمیر ایک بہت بڑا عالمی دعوتی مرکز بن جائے۔ کشمیری اس منصوبہ خداوندی کو سمجھتے اور مکمل طور پر پر امن دعوتی کام میں اپنے آپ کو لگاتے ہوئے ہر سیاح کو قرآن پہنچاتے رہتے تو نہ صرف یہ کہ بہت بڑا دعوتی کام ہوتا بلکہ اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں میں خدا کی خصوصی مدد و نصرت کے مستحق بھی بن جاتے۔ مگر افسوس کشمیر کے کچھ لیڈروں نے مولانا کی پرامن دعوتی آئیڈیالوجی کے بجائے پرتشدد سیاسی آئیڈیالوجی کو اختیار کیا، جس کی وجہ سے یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔ اور اس کے برعکس، روز بہ روز کشمیر اور کشمیر یوں کی تباہی و بربادی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
فلسطین کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فلسطین بھی اپنی قدیم مذہبی تاریخی آثار کی وجہ سے عالمی سیاحوں کا مرکز ہے۔ اسی لیے فلسطین میں دعوت کا عالمی مرکز بننے کا پورا امکان موجود ہے، مگر افسوس فلسطین اور کشمیر دونوں کی کہانی ایک جیسی ہے۔
ان نامساعد حالات کے باوجود خدا کا فضل ہے کہ دونوں جگہ اب CPS کی ایک مضبوط ٹیم وجود میں آچکی ہے اور خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔
(6) بابری مسجد اور مولانا کا موقف: دوسرے معاملات کی طرح بابری مسجد کے مسئلے میں بھی مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے نے مولانا پر بڑی زیادتی کی ہے۔ مولانا کے موقف کو پڑھے اور سمجھے بغیر بات کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا so called دانشور طبقہ کیا اتنا کم فہم ہے کہ وہ کسی بات کو سمجھنے کی اپنے اندر سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ کسی نے کہا بابری مسجد مولانا نے ہندوؤں کو دے دی، کسی نے کہا مولانا نے مسلمانوں کو مسجد سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا، وغیرہ وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues