برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷۰
بابری مسجد کے معاملے میں مولانا نے جو رائے دی اس کی درجہ ذیل ترتیب ہے۔ اس زمانی ترتیب (chronology) کو سمجھے بغیر مولانا کا موقف واضح نہیں ہوسکتا۔ اس کی وضاحتی ترتیب کچھ اس طرح ہے:
1۔ اس معاملے میں مسلمانوں کو کم سے کم جو کرنا تھا وہ یہ تھا کہ یکم فروری 1986 کے بعد بھی وہ اسی طریقہ پر قائم رہتے جس پر وہ اس سے پہلے قائم تھے یا دوسری سیکڑوں مسجدوں کے بارے میں آج بھی جس طریقہ کو وہ عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یعنی مذکورہ غلط فیصلہ کو قانون اور گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرنا۔ (قیادت نامہ، صفحہ 79)
مولانا کا پہلا مشورہ یہ تھا۔ مگر ہمارے لیڈروں اور اخبارات نے اس کے بالکل برعکس جو کچھ کیا، وہ یہ تھا: بند، گرفتاری، دھرنا، ریلی، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے شروع کردیے۔ اور ہمارے اخبارات نے اس موضوع پر تیز و تند سرخیاں قائم کر کے مسلسل دھواں دھار مضامین شائع کیے۔ اس طرح اس مسئلے کو مقامی سطح سے اٹھا کر بین الاقوامی مسئلہ بنا کر پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شدید ترین تناؤ کا ماحول بنا دیا۔
2۔ دوسرے مرحلے میں جب حکومت اور عدالت دونوں کوئی پائیدار فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے، اس وقت ایک میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی کہ تاریخ دانوں کے ایک بورڈ کو ثالث بنا کر معاملہ اس کے حوالے کیا جائے تا کہ وہ تاریخی آثار کی روشنی میں جانچ کر بتائے کہ مسجد کسی دوسری عمارت کو توڑ کر تو نہیں بنائی گئی ہے۔ ہندو فریق کے نمائندوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا مگر مسلم فریق کے ایک لیڈر نے ہنگامہ کر کے اس کو ماننے سے انکار کیا۔ (ملاحظہ ہو مضمون، قیادت کا دیوالیہ پن، اس مسئلہ پر جلسہ، جلوس، نعرے بازی و بیان بازی کر کے نفرتوں کو اتنی ہوا دی گئی کہ فرقہ پرستی کا سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھا۔ تمام فرقہ پرست عناصر متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے، جس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ اگلے الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں 2 سے 89 ہوئیں اور پھر 89 سے بڑھ کر 180 ہو گئیں (اب 300 تک پہنچ چکی ہیں)۔ بالآخر اس سیاست کا انجام یہ ہوا کہ بابری مسجد 6 دسمبر 1992 کو گرا دی گئی اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر بھی پولیس اور فوج کی موجودگی میں بنا دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues