Al-Risala · August 2021 · page 273

برنامجنا اعداد المبرمجین

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷۳

مولانا کی تحریریں میری نظر میں محمد ندیم ندوی، مظفر نگر مولانا کے متعلق پہلا تعارف لکھنؤ میں دورانِ تعلیم ہوا، یہ تعارف منفی تھا۔ دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے ندوہ کی لائبریری میں پیغمبر انقلاب کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے میرے زاویہ فکر کو تبدیل کر دیا۔ یعنی یہ معاملہ قدیم اسلوب تحریر اور عصری اسلوب تحریر کا ہے، منفی ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔ پھر میں نے مولانا کی کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مولانا کی کتابوں کے متعلق تاثرات کو میں چند نکات کی روشنی میں رکھوں گا:

1۔ علمی تنقید زندہ قوم کی علامت اور اس کی بقاء کا ذریعہ ہے اور تعمیر ملت کا لازمی جزء ہے۔ یہ چیز آپ کو مولانا کی تحریروں میں جا بجا نظر آئے گی، خصوصاً "شتم رسول کا مسئلہ" نامی کتاب میں علمی تنقید کا اعلیٰ نمونہ موجود ہے۔

2۔ مولانا نے ثابت کیا کہ کیسے ہم موجودہ مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کر سکتے ہیں۔ جب کہ دیگر علماء، پچھلی صدیوں ہی میں گم نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا کی کتاب مسائل اجتہاد بہت اچھی کتاب ہے۔

3۔ مولانا کی تحریروں سے انسان کے اندر تعمیری صلاحیت اور عملی جذبہ پیدا ہوتا ہے جو تعمیر انسانیت کے لیے ناگزیر ہے۔ جیسے رازِ حیات، تعمیر حیات اور ’’نشری تقریریں" کے بعض خطبات۔ ان کتابوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا مولانا ایک موٹیویشنل آرٹ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ 4۔ ہندوستان کے مسائل پر مولانا نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے، اور ہر محبِ وطن کے لیے اس کا مطالعہ لازمی ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا کی "ہند پاک ڈائری" اور "ہندوستانی مسلمان" بہت عمدہ کتابیں ہیں۔

5۔ مولانا کی تحریریں معرفتِ الہی کا ذریعہ بنتی ہیں، اور بندے کا رب سے تعلق مضبوط کرتی ہیں۔ یہ چیز مولانا کی "کتاب معرفت" اور "اللہ اکبر" میں نمایاں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page