برنامجنا اعداد المبرمجین
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷۵
مولانا وحید الدین خان اور علماء کا اعتراض مولانا انس ملک ندوی ، سورت گجرات مولانا وحید الدین صاحب اب اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف سنجیدہ لوگ دھیرے دھیرے ان کی خدمات کا اعتراف کرنے لگے ہیں تو وہیں پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں، اور عوام کے مابین اپنی شہرت اور مقبولیت کے سبب لوگوں کو مولانا کے فکر سے بدظن کرتے ہیں۔ ان کی حیات میں یہی علماء ان کی کردار کشی کے درپے تھے اور آج ان کے اس دار فانی سے جانے کے بعد بھی ان کے خلاف جھوٹ اور بہتان باندھنے سے باز نہیں آتے دکھائی دیتے ، اور یہ سب وہ دین کے نام پر کرتے ہیں۔
بلاشبہ یہ بہت ہی بڑا اور بہت ہی سنگین جرم ہے۔ کاش کہ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا احساس رکھتے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ حسد جیسی برائی علماء کی ایک موروثی برائی ہے۔ علماء سے میری مراد علماء ئے سوء ہیں۔ ہمیشہ سے یہ چلا آ رہا ہے کہ ہر مصلحین کے ساتھ وقت کے دینی طبقہ کے پیشواؤں نے یہی سلوک کیا ہے۔ کسی سے اگر آپ کو علمی بنیاد پر اختلاف ہوا ہے تو اس کو اختلاف ہی تک محدود رکھنا چاہیے اسے نزاع اور کردار کشی تک نہیں جانے دینا چاہیے۔ بلاشبہ یہ سنگین جرم ہے۔ اب ہم جائزہ لیں گے کہ آخر ہمارے علما، کے اعتراضات کیا ہیں۔ کیا واقعی ان میں کوئی سچائی بھی ہے یا نہیں؟ مولانا وحید الدین خان پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، وہ یہ ہیں: 1۔ مولانا وحید الدین خاں اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔
2۔ مولانا وحید الدین ایک متنازع شخصیت ہیں۔ وہ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ 3۔ مولانا وحید الدین الہدیث ہیں، تین طلاق کے حق میں نہیں ہیں۔
4۔ وہ غیر مسلموں کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔
5۔ مولانا جہاد بالسيف کے قائل نہیں۔
6۔ مولانا تبلیغی جماعت کی مخالفت کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues