Al-Risala · August 2021 · page 276

برنامجنا اعداد المبرمجین

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷۶

7- بابری مسجد کے بارے میں مولانا کا موقف دوسرے علماء سے الگ کیوں ہے؟

8- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مولانا نے کہا ہے کہ وہ اسوہ حسنہ ہیں، اسوہ کاملہ نہیں۔ 9- مولانا شاتم رسول کی سزا کے قائل نہیں ہیں۔

10- آمد مسیح اور دجال کو ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔

سب سے پہلے جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ مولانا وحید الدین خان دین اسلام کے ایک سچے داعی ہیں اور حقیقی معنی میں اسلام کے مزاج اور اس کی روح سے آشنا ایک عالم دین۔ تبھی آپ مولانا کی فکر کو ان کے مشن کو سمجھ سکتے ہیں۔ ورنہ آپ انہیں اگر دوسرے علماء کی طرح سمجھیں گے تو ان کی باتوں کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یاد رکھیے کہ گائے کی غذا گھاس ہے اور شیر کی غذا گوشت۔ اسی طرح ہر آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ مولانا کو سمجھ سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا ذہنی مستوی بلند کرے۔ کند ذہن ذھن کا آدمی اس قابل نہیں کہ وہ مولانا وحید الدین خان جیسی علمی شخصیت کو سمجھ سکے۔ جو کوئی بھی بلا تعصب مولانا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا وہ با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ مولانا کے دلائل ایسے ہیں کہ اس کا کوئی جواب ہمارے رواجی علماء کے پاس موجود نہیں۔ دلیل کی سطح پر علماء پوری طرح بے بس ہیں۔ مولانا صاحب کی پوری فکر قرآن وسنت پر مبنی ہے۔ سالوں سے مولانا کی کتابوں کو پڑھنے کے بعد اور ان کی زندگی کو بغور مشاہدہ کرنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کی پوری زندگی رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے تعبیر ہے۔ سادگی، قناعت، صبر وتحمل، خدا کی معرفت، اور آخرت کا انداز— اسی سے مولانا کی پوری زندگی عبارت ہے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مولانا کے متعلق ایک شخص نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ تو آخرت نویسی کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بات بالکل درست ہے کہ مولانا کی تمام کتابیں اور ان کی زندگی کے روزو شب اسی سے عبارت ہیں۔ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔ خدا کی معرفت، مخلوق کی خیر خواہی یہی ساری چیزیں مولانا کی کتابوں میں آپ پائیں گے۔ کہنے والے کی یہ بات درست ہے۔ لیکن بس اسے طنزیہ نہیں، بلکہ تعریف میں ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ دراصل معاملہ تو اصل آخرت ہی کا ہے۔ مخلوق کی خیر خواہی میں اپنے آپ کو پگھلا ڈالنا۔ خدا کی معرفت اور دین اسلام کی تبلیغ کے علاوہ مولانا کو کبھی کسی اور معاملے کے لیے اتنا فکر مند اور بے چین نہیں پایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page