Al-Risala · August 2021 · page 278

برنامجنا اعداد المبرمجین

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷۸

کیا مولانا وحید الدین خان اجماع سے ہٹے ہوئے تھے؟ علماء، عام طور پر عوام کو مولانا وحید الدین خان کے خلاف صرف اسی جملے سے سے متنفر کرتے ہیں کہ مولانا اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے یہاں جو محتاط رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ آپ کو دوسری جگہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مولانا نے کچھ اکابرین پر تنقیدیں کی ہیں اور اس کے پیچھے بھی محرک صرف یہ تھا کہ دین اسلام کی حقیقی تصویر انسانیت کے سامنے آئے اور اسلام کا حقیقی چہرہ جو کہ ان اکابرین کی سیاسی اور جارحانہ تعبیر کے گرد و غبار میں چھپ چکی تھی، وہ چھٹ جائے۔ اور اسلام کا روشن چہرہ پوری انسانیت دیکھ سکے۔ مولانا کی زندگی کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو صرف ان ہی کاموں میں مشغول رکھتے اور انہی امور میں بولتے جہاں کوئی نتیجہ خیز عمل کی امید ہو، ورنہ وہ خاموشی ہی کو ترجیح دیتے تھے۔ اکابرین کے خلاف ان کی تنقیدیں در حقیقت علمی تجزیہ ہوتی تھیں، تنقید کے نام پر کسی کی تنقیص کرنا ان کا مسلک نہیں مولانا کی فکر کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مولانا ایک داعی ہیں۔ اسلام کے سچے داعی۔ دعوت اسلام ان کی زندگی کا مشن ہے جس کے سبب ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں مولانا کی رہنمائی ہمیشہ سے یہی رہی کہ اس ملک میں ہر حالت میں امن برقرار رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر امن نہیں ہوگا تو اس ملک میں دعوت کے مواقع برباد ہو جائیں گے۔

مولانا صاحب کی اسی حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مولانا پہلے شخص ہیں جو غیر مسلموں کے اعلیٰ افراد تک اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوئے۔ اسلام کے متعلق جو غلط فہمی ہندوستان کے غیر مسلم عوام کو لاحق تھی، ان کے ازالہ کا ایک بہت بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی ذات کو بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان مساعی کو شرف قبولیت بخشے اور اس ٹیم کو دین کی خدمت کے لیے مزید بہتر کارکردگی کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

2۔ دوسرا اعتراض ہے کہ مولانا وحید الدین خان ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ ان کو قبول عامہ حاصل نہیں۔ میں کہوں گا کہ متنازعہ ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت ہے۔ کیوں کہ داعی کا کام حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہوتا ہے۔ اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا وہ معاشرے میں متنازعہ ہو کر ہی رہے گا۔ انبیاء کی تاریخ اس کی شاہد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page