Al-Risala · August 2021 · page 285

Sunnah plus Ijtihad is equal to Uswah-e-Kamilah

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸۵

دیں۔ اور آج حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اتنی قربانیوں کے باوجود آج کشمیر کے حالات بد سے بدتر ہیں۔ کاش کہ کشمیریوں نے مولانا کی تجویز کو قبول کر لیا ہوتا تو آج ان کو یہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مولانا کا ایک واقعہ آپ کے سامنے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ والوں کا رد عمل پریشان کن حالات میں کیسا ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں این آرسی اور سی اے اے کے معاملہ کو لے کر مسلمان کافی خوف زدہ ہیں۔ وہی جلسے جلوس اور احتجاجات کی فضا خوب چل رہی تھی، جو فی الحال کووڈ کی وجہ سے تھم چکی ہے۔ بہر حال مولانا سے سے این آرسی اور سی اے اے کے متعلق مشورہ چاہا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ مولانا نے بالکل خاموشی کے ساتھ یہ جواب دیا کہ یہ ملک اور اس کی نعمتیں تمہیں دینے والا خدا ہے تو جو چیز خدا نے دی ہے تو اسے چھینے کا حق بھی صرف اور صرف خدا کو ہی ہے۔ کوئی اور اسے ہر گز چھین نہیں سکتا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، صرف اپنے وطنی بھائیوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں ، ان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کریں۔ یقین جانیے، یہ سب معاملے یوں ہی ختم ہو جائیں گے۔ یقیناً اسی کو کہتے ہیں حکمت۔ خدا کی عنایت سے ایک مومن ان چیزوں کو جان لیتا ہے جسے دوسرے لوگ کبھی جان نہیں سکتے۔ مولانا کی یہ بات حتمی ہے۔ یقیناً ان چیزوں سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ماضی کے پہیے کو کبھی بھی ریورس گیئر میں گھمایا نہیں جا سکتا۔ مگر یہ کہ مسلمان پھر سے ”آ بیل مجھے مار“ والی پالیسی اپنائیں۔ ورنہ اس طرح کی چیزیں خود بخود مٹ جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ڈرنے کا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم الشان ذمہ داری کو کرنے کا کام ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو سونپی ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ کا مشن۔

مولانا کی وہ صفت جس نے مولانا کو لاکھوں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا، وہ تھی پوری انسانیت کی فلاح کے لیے ان کی کڑھن۔ وہ صرف ذہین انسان نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت متقی انسان تھے، اور اسی تقوی کی بنا پر اللہ نے ان پر اپنی حکمت کے سرے کھول دئے تھے۔ آج کوئی بھی معقول آدمی مولانا کو پڑھ کر متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ ان کی باتوں میں جس طرح کا وضوح، مسائل کا استدراک اور ہر ایک واقعہ سے عبرت خیزی کا انوکھا انداز یقیناً خدا کی عطا کے بنا ممکن ہے۔ مولانا دعا اور پینٹیڈ انسان تھے۔ وہ ہر وقت دعائیں رہتے تھے اور ہم تمام ساتھیوں کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ 2019 میں میں جب دہلی قرآن کانفرنس میں شریک ہوا تو مولانا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page