اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸۷
موت العالم، موت العالم خورشید احمد ندیم، پاکستان بیسویں صدی کے بڑے اور جید عالم مولانا وحید الدین خاں دنیا سے رخصت ہوئے۔ خدا کا ایک بندہ جو پیغمبروں کی اتباع میں، تمام عمر رب سے ملاقات کی منادی کرتا رہا، اپنے رب کے سامنے پیش ہو گیا۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ پروردگار عالم کے دربار میں، ایک داعی الی اللہ کی یہ حاضری کیسی ہوگی۔ اس شان، اخلاص اور استدلال کے ساتھ آخرت کی تذکیر، واقعہ یہ ہے کہ اس امت میں صدیوں سے نہیں سنی گئی اور نہیں معلوم پھر کب سنی جائے گی۔
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
1988ء میرے لیے ایک مہربان سال تھا۔ اس سال مولانا وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی صاحب سے میرا شعوری تعارف ہوا۔ 1989ء میں جب جاوید صاحب کی صحبت نصیب ہوئی تو ان شخصیات کے کام کو علمی سطح پر سمجھنے کا ذوق پیدا ہوا۔ اگر’’جاوید نامہ‘‘ ان سے سبقا سبقا نہ پڑھا ہوتا تو علامہ اقبال کو شاید اس طرح دریافت نہ کر پاتاہی۔ یہی معاملہ مولانا وحید الدین خان اور دوسرے اہل علم کا بھی ہے۔
بطور عالم اور داعی، مولانا ایک بے مثل آدمی تھے۔ ان کی شخصیت کی تیسری جہت ادبی ہے۔ وہ ایک صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز تھے۔ وہ دبستانِ شبلی ہی کے ایک فرد تھے جس سے منسوب شخصیات کے علمی کمالات ہی نہیں، اردو زبان و ادب کے لیے خدمات بھی ہماری روایت کا ایک شاندار باب ہے۔ دینی ادب کو مولانا نے ایک نیا لہجہ اور اسلوب دیا۔ ان کے جریدے الرسالہ کو دعوتی لٹریچر میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔
بحیثیت عالم، ان کا سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر عالمانہ تنقید ہے۔ یہ تنقید مولانا اشرف علی تھانوی نے کی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بھی کی۔ مگر مولانا وحید الدین خان کی کتاب تعبیر کی غلطی اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ علمی متانت، عقلی نقلی استدلال، قوت بیان و تاثیر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues