Al-Risala · August 2021 · page 293

مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹۳

تعلیم (8) ہنر اور تجارت (9) وقف کی جائداد کا صحیح استعمال (10) مقامی سیاست کا فروغ ۔ مولانا وحید الدین خان سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں خاص کر مسلم عورتوں میں ابھی بھی تعلیم کی کمی ہے۔ اعلیٰ تعلیم بھی مسلم بہت پیچھے ہیں ، البتہ اس معاملے میں انہیں آگے امید کی کرن نظر آنے لگتی ہے ۔ وہ معاشی حالات کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر 1947 ء سے پہلے سے ہم بہتر ہیں۔ یہاں کے مذہبی اداروں کی حالت اطمینان بخش تو ہے ، مگر مسلم سیاست سے وہ کسی قدر نالاں ہی ہیں ۔ فسادات کے زیادہ تر ذمہ دار سیاسی لیڈروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ چونکہ ہمیں وحید الدین خان کے خیالات تقریباً بقیہ بھی مذہبی رہنماؤں سے الگ تھلک لگتے ہیں ۔ وہ اس لیے کیوں کہ انہوں نے خود اس بات کو مانا ہے کہ ان کا اپروچ Realistic ہے ، جب کہ دوسرے لوگوں کا اپروچ Non-Realistic ہوتا ہے ۔ وحید الدین خان کے مطابق انہوں نے حقیقت پسندانہ نقطہ نظر (Realisti Approach 1967) سے الجمعیۃ ویکلی کے زمانے سے ہی اپنا نا شروع کیا تھا۔ تب سے لے کر مرتے دم تک مایوسی خان صاحب کے نزدیک پھٹکی بھی نہیں تھی ۔ برصغیر کے جن اسلامی دانشوروں اور رہنماؤں نے بیسویں صدی کے آغاز سے ہی تشدد کو اسلام سے جوڑ کر اپنے خیالات کا پرچار کیا ، ان کی خان صاحب نے کافی مذمت کی ہے ۔

” ہندوستان کدھر “ سرخی کے تحت خان صاحب نے بابری مسجد پر بھی اپنے منفرد انداز میں بات کی ، اور وہ ہمیشہ اس مسئلے کے سلجھنے کے حق میں تھے ۔ جن خیالات کا اظہار بیان اس کتاب میں تفصیلاً کیا گیا ۔ اس طرح وہ ” نیا ہندوستان “ سرخی کے تحت نئی امیدوں کے سہارے نئے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی ، انسانیت ، قومی اتحاد اور مسائل کا ایک proper حل کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ وحید الدین خان مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح تقسیم ہند کو سب سے بڑا المیہ اور غلطی بھی مانتے ہیں اور قومیت کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں : قوم وطن سے بنتی ہے ، نہ کہ مذہب سے ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب بلا شبہ الگ الگ ہے ، مگر دونوں ایک قوم ہیں ۔

جنگ آزادی کے دوران مسلمانوں کی خدمات کو وہ دہراتے ہیں ، البتہ دو قومی نظریے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page